جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بھارت کو ایک اور پیشکش کردی

datetime 4  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کرنے کو تیار ہے ٗخطے میں کشیدگی نہیں چاہتے ٗبھارت سمیت تمام ہمسائیوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں ٗ کشمیری اپنے بنیادی حق حق خود ارادیت کا پختہ عزم لیے اپنی پرامن تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کی بحالی کے بعد پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاک بھارت دوطرفہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی توقع نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں کشیدگی نہیں چاہتے اور بھارت سمیت تمام ہمسائیوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں تا کہ خطہ ترقی کرے اور لوگ خوشحال ہوں، یہی وجہ ہے کہ ہماری اس پالیسی کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور سفارتی سطح پر جاری کارروائیوں کو بھرپور اور منہ توڑ جواب بھی دیا جا رہا ہے۔ بھارتی افواج سرحد پر موجود پاکستانی آبادی اور ان کی املاک کو نشانہ بناتے ہیں جو دہلی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دنیا کے دیگر اہم رہنما بھارت کی لائن آف کنٹرول پر کی جانے والی خلاف ورزیوں پر دہلی حکومت سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت سرحدوں پر کشیدگی پیدا کر کے کشمیریوں کی پرامن تحریک آزادی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے ٗ کشمیریوں کی پرامن تحریک آزادی نے بھارت کو پاگل کر رکھا ہے، جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں بھارت میں تمام اقلیتی فرقے کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، بھارتی جارحیت مقبوضہ کشمیر میں نہ تو پہلے کشمیریوں کو دبانے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی اب ہوگی کیونکہ کشمیری اپنے بنیادی حق حق خود ارادیت کا پختہ عزم لیے اپنی پرامن تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کی حالیہ شہادتوں نے اس تحریک میں ایک نئی لہر پھونک دی ہے، طارق فاطمی کا نے کہاکہ پاکستانی افواج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب تو دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں اورہماری ایک ذمہ دارانہ پالیسی ہے جسے دنیا سراہتی بھی ہے جس پر ہم گامزن ہیں، بھارت کو چاہیے کہ سرحد پر موجود عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی بجائے جو اصل مسئلہ ہے اس کو حل کرے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ان کا بنیادی حق دے تاکہ وہ بھی آزادی سے اپنی زندگی گذار سکیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…