جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نئی موٹر ویز،وزیراعظم نے بڑی خبر سنادی

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے تمام علاقہ جات کو ٹریفک کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 اور 4 لین کی موٹرویز کے ساتھ منسلک کیا جائے گا ٗ ملک کے طول و عرض میں شاہراتی منصوبہ جات کی تکمیل سے جی ڈی پی میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ہو گا۔وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ملک بھر میں اہم شاہراتی نیٹ ورک کے بارے میں پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں شاہراتی منصوبہ جات کی تکمیل سے جی ڈی پی میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ہو گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید شاہراتی نیٹ ورکس کی تعمیر کیلئے موجودہ حکومت نے ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ شرکاء کو بڑے بڑے شاہراتی منصوبہ جات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل، معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے موجود مختلف طریقہ ہائے کار کی سختی پیروی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بڑی سڑکوں کی تعمیر کیلئے 334 ارب روپے وقف کئے گئے ہیں ٗ گذشتہ حکومتوں کے دوران اس مد میں محض 65 ارب روپے سالانہ مختص کئے جاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مقدار میں رقم مختص کرنا ہماری توجہ اور دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو ملک کے مرکزی اور بڑے شہروں کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجہ میں بہت زیادہ اقتصادی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم ترقی یافتہ اور ترقی یافتہ علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق بھی کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تمام صوبوں اور علاقوں کے لوگوں کے مابین یکجہتی کا احساس بھی تقویت پائے گا۔

چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے اجلاس کے شرکاء کو ملک کے طول و عرض میں جاری اہم شاہراتی منصوبوں کے بارے میں پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیاجن میں پنجاب میں گوجرہ۔شورکوٹ موٹروے، شورکوٹ۔خانیوال موٹروے، لاہور۔عبدالحکیم موٹروے، ملتان۔سکھر موٹروے اور لاہور۔سیالکوٹ موٹروے، کے پی کے میں ہکلہ۔ڈی آئی خان ایکسپریس وے، ہزارہ موٹروے، لواری ٹنل، حویلیاں۔تھاکوٹ موٹروے، تخت بائی فلائی اوور اور طورخم۔جلال آباد ایڈیشنل کیرج وے، سندھ میں کراچی۔حیدرآباد موٹروے، لیاری ایکسپریس وے، بلوچستان میں ژوب۔ مغل کوٹ (سی پیک مغربی راہداری)، ہوشاب۔خضدار (مغربی کوریڈور)، قلعہ سیف اﷲ۔ویگم رد (این۔17) اور خضدار۔شاداد کوٹ جبکہ وفاقی دارالحکومت میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلئے رابطہ سڑکیں شامل ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…