جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

دہشت گردوں کا ایف سی کی مسجد پر حملہ ۔۔شہادتیں

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہمند ایجنسی میں غلنئی کیمپ کی مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 ایف سی اہلکارشہید جبکہ 14زخمی ہو گئے ایف سی کیمپ میں ریکروٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے چاروں خود کش حملہ آوروں کو ماردیا گیا ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق مہمند ایجنسی میں صبح 6بجے غلنئی کے ایف سی کیمپ میں اسلحے سے لیس4حملہ آوروں نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں متعدد ریکروٹس موجود تھے۔حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں کا گھیرا ؤ کرکے انہیں مسجد سے باہر ہی روک دیا گیا جس کے نتیجے میں 2 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔واقعے میں2 حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ 2حملہ آوروں کو سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔
حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں جو کیمپ کے اندر رہائشی علاقے کی مسجد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جہاں پر ریکروٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔سیکورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا محاصرہ کیا جس کے بعد دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ جھڑپ کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور مہمند پشاور شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔مہمند ایجنسی کے لیویز اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ ہفتے کی صبح چھ بجے کے قریب پیش آیا۔اہلکار کے مطابق مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں دہشت گردوں نے مہمند رائفلز کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا جس میں دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ تاہم جوابی کارروائی میں چار دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریش شروع کر دیا گیا ہے تاہم آخری اطلاعات تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔
اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد خوف کے باعث علاقے میں جزوی طور پر کرفیو نافذ ہے اور اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس سے علاقے میں شدید خوف پھیل گیا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے ایجنسی میں شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والی کاروائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں اور گذشتہ روز بھی شدت پسندوں نے ایک سرکاری سکول کو بم دھماکے سے اڑا دیا تھا جبکہ امن کمیٹیوں کے ممبران، سکیورٹی اہلکار بھی شدت پسندوں کا ہدف رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے اگرچہ علاقے میں وقتاً فوقتاً سرچ آپریشن اور کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود شدت پسند حملے جاری ہیں جس میں اب تک متعدد ہلاکتیں ہوچکی ہیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…