بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

دہشت گردوں کا ایف سی کی مسجد پر حملہ ۔۔شہادتیں

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہمند ایجنسی میں غلنئی کیمپ کی مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 ایف سی اہلکارشہید جبکہ 14زخمی ہو گئے ایف سی کیمپ میں ریکروٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے چاروں خود کش حملہ آوروں کو ماردیا گیا ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق مہمند ایجنسی میں صبح 6بجے غلنئی کے ایف سی کیمپ میں اسلحے سے لیس4حملہ آوروں نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں متعدد ریکروٹس موجود تھے۔حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں کا گھیرا ؤ کرکے انہیں مسجد سے باہر ہی روک دیا گیا جس کے نتیجے میں 2 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔واقعے میں2 حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ 2حملہ آوروں کو سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔
حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں جو کیمپ کے اندر رہائشی علاقے کی مسجد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جہاں پر ریکروٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔سیکورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا محاصرہ کیا جس کے بعد دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ جھڑپ کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور مہمند پشاور شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔مہمند ایجنسی کے لیویز اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ ہفتے کی صبح چھ بجے کے قریب پیش آیا۔اہلکار کے مطابق مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں دہشت گردوں نے مہمند رائفلز کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا جس میں دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ تاہم جوابی کارروائی میں چار دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریش شروع کر دیا گیا ہے تاہم آخری اطلاعات تک کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔
اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد خوف کے باعث علاقے میں جزوی طور پر کرفیو نافذ ہے اور اب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس سے علاقے میں شدید خوف پھیل گیا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے ایجنسی میں شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والی کاروائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں اور گذشتہ روز بھی شدت پسندوں نے ایک سرکاری سکول کو بم دھماکے سے اڑا دیا تھا جبکہ امن کمیٹیوں کے ممبران، سکیورٹی اہلکار بھی شدت پسندوں کا ہدف رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے اگرچہ علاقے میں وقتاً فوقتاً سرچ آپریشن اور کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود شدت پسند حملے جاری ہیں جس میں اب تک متعدد ہلاکتیں ہوچکی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…