اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں دھند کی اصل وجہ سامنے آ گئی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب میں کسانوں کی جانب سے جلائی جانے والی فصلوں کی باقیات اور گھاس پھوس نذرِ آتش کرنے سے کثیف دھواں فضا میں جاتا ہے جو سرد موسم میں منجمند ہوکر گاڑھے دھویں یا اسموگ کی صورت میں بھارت اور پاکستان پر چھایا رہتا ہے۔سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر اور ڈیٹا پر مشتمل ناسا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھند کی وجہ محض دیوالی کی آتش بازی نہیں بلکہ اس میں زرعی فضلے مثلاً چاول کے پھوگ کو لگائی جانے والی آگ بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ سے ایک جانب تو معمولاتِ زندگی مثلاً ٹرانسپورٹ اور پروازیں تاخیر کی شکار ہورہی ہیں تو دوسری جانب لوگ سانس اور آنکھوں کے امراض سمیت کئی بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں اور یہ انسانی دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسموگ میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ ، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر ذرات شامل ہوتے ہیں۔ ناسا کے مطابق بھارتی پنجاب اور دیگر اداروں میں 32 ملین ٹن ( 30 ارب کلوگرام) سے زائد فصلوں اور دیگر اشیا کو جلایا گیا ہے جس سے یہ آلودگی پیدا ہوئی ہے۔ناسا کے مطابق 17 سے 20 اکتوبر تک ہریانہ اور بھارتی پنجاب میں کئی مقامات پر فصلوں کو آگ لگائی گئی تاکہ زمین صاف کرکے اس پر دوسری فصل اْگائی جاسکے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ خود یہ دھواں دہلی کو بھی متاثر کررہا اور وہاں بھی دھند کا راج ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق بھارتی پنجاب میں قائم کوئلے کے بجلی گھر بھی اس دھند کی وجہ ہے اور قدرتی طور پر چلنے والی ہواؤں کے تحت یہ دھند سردیوں میں بڑھتے بڑھتے سندھ پنجاب سرحد کے قریب پہنچنے لگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…