ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹرپرحملہ ،پاک فوج کے جنرل کااہم انکشاف

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹینٹ جنرل عامر ریاض نے سانحہ کوئٹہ پر کہا ہے کہ افغانستان میں بیٹھ کر کارروائیاں کرنے والوں کا ہمیں علم ہے اور جلد ایسے سفاک قاتل ہماری گرفت میں ہوں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والوں کے قدموں کے نشان جہاں تک گئے ہمیں سب معلوم ہے۔ یہ بات انہوں نے سانحہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے شہدا کی یاد میں منعقدہ شمعیں روشن کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض نے کہا کہ کچھ روز قبل دہلی میں ایک متنازع تقریر کی گئی تھی
اور اُس نفرت آمیز تقریرنےاپنا اثر پی ٹی سی حملے میں دکھا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے معصوم اور نہتے طالب علم سپاہیوں کو نشانہ بنانے والوں نے کُھل کر ہم پر حملہ کیا، یہ قومی سلامتی پر حملہ ہے،افغانستان میں بیٹھ کر کارروائیاں کرنے والوں کا ہمیں علم ہے اور جلد ایسے سفاک قاتل ہماری گرفت میں ہوں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلٰی بلوچستان کا کہنا تھا کہ بزدل دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اب وہ چھپ کروار کررہے ہیں، پی ٹی سی پر حملہ کرنے والوں کے قدموں کے نشان جہاں تک گئے ہمیں سب معلوم ہے،قاتل بچیں گے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد حملوں کے ذریعے پاکستان سے بلوچوں کی محبت کم نہیں کر سکتے،وطن عزیز کی سلامتی کے لئے کٹ جائیں گے لیکن پاک دھرتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…