ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا مکمل یوٹرن‘ سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے سے بالکل مکر گیا۔۔ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کا اعتراف

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(ایکسکلوژو رپورٹ ) بھارت پاکستان پر اپنے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے سے یکسر مکر گیا۔ تفصیل کے مطابق نجی ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت نے سرجیکل سٹرائیکس کے حوالے سے مکمل طور پر یوٹرن لے لیا ہے ، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت پاکستان کے ساتھ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اڑی حملے کے بعد سے بھارتی قیادت کو یہ واضح تھا کہ پاکستانی فوج سے پنگا لینا بھارتی مفاد میں نہیں ہوگا۔ پاکستان سے سرحدی کشیدگی کے باعث بھارتی فوج پر اسلحے اور لاجسٹکس کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی یونٹس کو چھوٹے اسلحے اور گولہ بارود کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بعض معاملات میں تو سرحدی یونٹس کے پاس اتنا اسلحہ اور گولہ بارود بھی نہیں کہ بھرپور سرحدی کشیدگی کے دوران تین چار دن بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ ایسے میں اگر فل سکیل جنگ چھڑجائے تو بھارتی فوج کے لئے انتہائی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔ٹائمز آف انڈیا گروپ آف پبلی کیشنز کے تحت شائع ہونیو الے ’’اکنامک ٹائمز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حکام اور وزارت دفاع کیا یگزیکٹوز نے بتایا کہ حکومت نے اسلحہ تیار کرنے والے اداروں اور سپلائرز کو اضافی اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کے لئے بھرپر الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی ٹی وی NDTV کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں دفاعی تجزیہ کارایشلے ٹیلس جنہیں پوری دنیا میں جانا مانا جاتا ہے انہوں نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں ایک بار پھر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پاکستان اور چین سے کبھی بھی جنگ نہیں کر سکتا کیونکہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں کہیں کمزور ہے۔ بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان نے بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار پروفیسر بھکشی سے سوال کیا کہ لگاتار یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم پاکستان کے مقابلے میں بہت پیچھے ہوتے جا رہے ہیں تو کیا یہ درست ہے کہ نہیں؟یا یہ صرف امریکہ نے اپنے ہتھیار بیچنے کیلئے رپورٹ بنائی ہے۔
میزبان کے سوال کے جواب میں سینئر بھارتی دفاعی تجزیہ نگار نے کہا کہ امریکہ پر ہتھیار بیچنے کا الزام لگانا اور بھارت کے دیگر عذر صرف ایک بہانہ ڈھونڈنے والی بات ہے۔ اس میں کلی طور پر بالکل حقیقت ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ پروفیسر بھکشی نے کہا کہ بھارتی چیف آف ایئر سٹاف اس بات کا برملا اقرار کر چکے ہیں کہ ہم پاکستان سے کسی صورت جنگ کرنے کے متحمل نہیں۔پروفیسر بھکشی نے کہا کہ بھارت کے ایئر چیف مارشل نے جو سچ بولا وہ بھارت میں پہلی بار کسی نے سچ کہا ہے۔ پروفیسر بھکشی نے کہا کہ ہماری فوجی قوت اتنی گھمبیر ہے کہ ہم جنگ کر ہی نہیں سکتے۔ پروفیسر بھکشی نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کے 44 سکواڈرن کم ہو کر صرف 32 رہ گئے ہیں جس میں مزید کمی آنے والی ہے۔ پروفیسر بھکشی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ اسلحہ دوسروں سے خریدتا ہے جبکہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اسلحہ بنا رہے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ نگار پروفیسر بھکشی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی بھی ایئر کرافٹ نہیں بناتے، نہ ہم اس کا انجن بناتے بلکہ خریدتے ہیں۔ ہم کوئی ایئر کرافٹ، مشین گن، انجن یا کوئی دوسری چیز بنانے کے قابل ہی نہیں۔پروفیسر بھکشی نے کہا کہ صرف ایئر فورس ہی پاکستان سے اس مقابلے میں پیچھے نہیں بلکہ آرمی اور نیوی میں بھی یہی حال ہے۔ پروفیسر بھکشی نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے کمزور ہونے کی جو باتیں نکل چلی ہیں یہ بالکل درست ہیں اور ان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…