اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاناما پیپرزپر تنازعے کا ڈراپ سین ،فیصلہ ہوگیا،قرضے معاف کرانے والے بھی زِد میں آگئے

datetime 18  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاناما پیپرزپر تنازعے کا ڈراپ سین ،فیصلہ ہوگیا،قرضے معاف کرانے والے بھی زِد میں آگئے،تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں پارلیمانی کمیٹی پاناما لیکس ، آف شور کمپنیز سمیت قرضے معاف کرانے اور کک بیکس کے معاملے کا بھی جائزہ لے گی،پارلیمانی کمیٹی کے لئے نام بعدمیں فائنل کئے جائیںگے۔ متفقہ ٹی آو آرز کے لئے بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیاہے جبکہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے 6، 6 ارکان شامل ہونگے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اعلان کیا کہ وزیراعظم نے اسپیکر کو پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی۔ اسمبلی کی اجازت کے بعد کمیٹی اپنا کام شروع کر دے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام ابھی فائنل نہیں ہوئے۔ حکومت اتحادیوں سے مشاورت کے بعد نام فائنل کرے گی جبکہ متحدہ اپوزیشن سے بھی 6 نام لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجاویز مرتب کرنے کیلئے کمیٹی کو دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا جو ٹی او آرز طے کر کے ایوان میں پیش کرے گی۔ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…