جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

نیا آپشن بہتر آپشن،قبل از وقت انتخابات کی گھنٹی بج گئی،وزیراعظم نوازشریف بارے اہم شخصیت نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 15  مئی‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف قبل از وقت انتخابات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ترکی کی قیادت کی طرف سے حال ہی میں اس طرح کا اقدام اٹھائے جانے کے بعد شاید وہ ان سے مشاورت کرنے گئے ،جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جا تیں تب تک وزیر اعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور پارٹی کی کسی دوسری شخصیت کو اس عہدے پر بٹھا دیں،میرا یا میری اہلیہ کا پانامہ لیکس میں نام نہیں آیا اس لئے ہمیں کسی کمیشن کی ضرورت نہیں ،تمام تحقیقاتی ادارے حکومت کے ماتحت ہیں ،ہمارے اوپر الزامات تو لگاتے ہیں لیکن مقدمہ درج کر کے تحقیقات کیوں نہیں کرتے ؟۔ ایک انٹر ویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پانامہ لیکس میں نام آجانے کے بعد اخلاقی طورپر تو وزیر اعظم کا ایک پل بھی وزیر اعظم کے عہدے پر رہنا نہیں بنتا، اس لیے وزیر اعظم اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پو ری کریں ، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو ں اور اپنی جگہ پارٹی کی کسی بھی شخصیت کو نامزد کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپوزیشن کے دئیے گئے ٹی او آرز پر متفق ہو جائے تو چیف جسٹس ان پر کمیشن بنانے سے انکار نہیں کریں گے، ہم حکومت سے ٹی اوآرز پر مذاکرات کیلئے آج بھی تیار ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی تک پیپلز پارٹی کے اندر اس بات کا ذکر تک نہیں ہوا کہ ہم احتجاج کے طورپر اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے اور یہ محض افواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات اس لیے کمزور ہیں کیونکہ کمزوری تو میاں صاحب خود دکھاتے ہیں اور الزام ہم پر لگاتے ہیں ۔ وہ اپنے اختیارات سے خود دستبردار ہو تے جا تے ہیں اورپھر روتے ہیں ، وہ خود کہتے ہیں کہ کرپشن کے الزامات کا احتساب ہو ناچاہیے لیکن جب اپوزیشن کے ٹی او آرز کو پڑھتے ہیں کہ سب سے پہلے انہی کا احتساب ہونا چاہیے تو پھر رونے دھونے لگ جا تے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس اس ساری صورتحال سے نکلنے کیلئے قبل از وقت انتخابات ایک آپشن ہے جس پر وہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور وہ شاید ترکی اسی لئے گئے ہیں جہاں حال ہی میں ا س طرح کا اقدام اٹھایا گیا ہے ۔ لیکن قبل از وقت انتخابات کر وادینے سے بھی مسئلہ حل ہو نے والا نہیں کیونکہ اگر جمے ہوئے دہی کو وقت سے پہلے چھیڑ دیا جائے تو و ہ کبھی بھی و اپس اپنے اصل کی طرف نہیں آتا ۔اگر وزیر اعظم نے استعفیٰ دیدیا تو پھر پو شید ہ قوتوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجو دہ صورتحال کا نقصان صرف اور صرف نو از شریف کو ہو رہا ہے ، یہ انہیں خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے کس طرح نکل سکتے ہیں ۔اعتزاز احسن نے کہا کہ نو از شریف اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے ماہر ہیں ، ان کو ایک دفعہ بچایا بھی ہے لیکن یہ خود ہی اپنے آپ کو اسی راستے پر لے جا تے ہیں۔انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ میرا اور میری اہلیہ کا نام پانامہ لیکس میں نہیں آیا اس لیے ہمارے احتساب کے لئے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں ہے ،اگر میں نے یا میری اہلیہ نے کسی قسم کی کوئی کرپشن کی ہے تو حکومت کو مکمل اختیار ہے اور تمام تحقیقاتی ادارے اس کے ماتحت ہیں کیوں ہمارے خلاف پرچہ درج کر اکے تحقیقات نہیں کرتے ۔ اس لئے حکومت مجھ پر صرف الزامات نہ لگائے اور کردار کشی نہ کرے بلکہ عملی طورپرثابت کرے ۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…