ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم بڑی مشکل میں پھنسے گئے ہیں

datetime 1  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اورسینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بڑی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں، وزیراعظم سے غلطی ہوئی کہ بیٹے سے اقرار کرالیا کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے،ٹرسٹی، بینفشل آنر میں کوئی فرق نہیں ملکیت میں سب کا حصہ ہے، میاں صاحب کا نام جب تک کلیئر نہیں ہوتا انہیں استعفیٰ دینا چاہیے اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کا نام کلیئر ہو سکے گا۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں، آج کے جلسے میں بلاول بھٹو نے واضح طور پر مسلم لیگ (ن) سے متعلق پیپلز پارٹی کی پالیسی بتا دی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میاں صاحب کا نام جب تک کلیئر نہیں ہوتا انہیں استعفیٰ دینا چاہیے اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کا نام کلیئر ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز کو تبدیل نہیں کر سکتی، اگر چیف جسٹس ایسا کریں گے تو سیاست کا الزام لگ جائے گا، ٹی او آرز طے کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ بوکھلاہٹ کی نشانی ہے کہ چیف جسٹس کو ضابطہ کار بنانے کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بڑی مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں،وزیراعظم نواز شریف سے غلطی ہوئی کہ بیٹے سے اقرار کرالیا کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے، ٹرسٹی، بینی فشل آنر میں کوئی فرق نہیں ملکیت میں سب کا حصہ ہے۔ اعتزاز احسن نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات میں ظاہر ہوا کہ نیلسن اور نیسکول مریم نواز کی ملکیت ہیں، میاں صاحب کہتے ہیں کہ دوستوں سے قرضہ لے کر لندن میں کاروبار شروع کیا، انہیں وہ بینک ٹرانزیکشنز دکھانی ہوں گی جن میں وہ پیسہ لندن منتقل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میاں صاحب اپوزیشن کے ضابطہ کار کو قبول نہیں کریں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میاں صاحب کے پاس اس بھنور سے نکلنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلائیں اور اپنے اثاثوں کی تفصیلات سب کو بتا دیں تو معاملہ حل ہو جائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…