ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مصطفی کمال ، انیس قائمخانی کا پلان اے ایم کیو ایم کو ٹیک اوور اور پلان بی اپنی جماعت بنانا تھا ‘ نبیل گبول

datetime 13  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( نیوز ڈیسک)سینئر سیاستدان نبیل گبول نے کہا ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کا پلان اے ایم کیو ایم کو ٹیک اوور اور پلان بی اپنی جماعت بنانا تھا ،دونوں کی رہائشگاہ کی طرف دوربین لگا رکھی ہے اور وہاں رات کے اندھیرے میں کچھ لوگ برقعہ اوڑھ کر بھی آ رہے ہیں۔ ایک انٹر ویو میں نبیل گبول نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ مصطفی کمال کو لایا گیا ہے ۔ایم کیو ایم میں اصل طاقت رابطہ کمیٹی نہیں بلکہ سیکٹر ز اور یونٹس کے انچارج ہیں اور انیس قائمخانی انہی لوگوںں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ایم کیو ایم کے موجودہ حالات کے تناظر میںپیشگی ایک صدیقی کا ذکر کیا تھا اب بھی بہت سے لوگ ہیں لیکن میں انکی زندگیوں کو لا حق خطرات کیوجہ سے ان کانام نہیں لوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کی رہائشگاہ کی طرف دوربین لگا رکھی ہے جس میں سب کچھ صاف نظر آرہا ہے۔ بہت سے لوگ رات کے پچھلے پہر آ رہے ہیں اور ان میں کچھ برقعہ اوڑھے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی خوف کی فضاءاب بھی بر قرار ہونے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ فضاءمکمل ختم تو نہیں ہوئی البتہ دونوں کی وجہ سے پچاس فیصد ختم ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں ۔ مصطفی کمال اور انیس قائمخانی پلان اے اور پلان بی لے کر آئے تھے ۔ پلان اے کے مطابق الطاف حسین کے نہ ہونے کی صورت میں پارٹی کو ٹیک اوور کرنا جبکہ پلان بی میں اپنی جماعت بنانا تھا اور اب وہ پلان بی پر عمل کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…