بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

رینجرز کو تھانے قائم کرنے کی اجازت دینا ہمارے اختیار میں نہیں، سپریم کورٹ

datetime 11  مارچ‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی عمل درآمد کیس میں رینجرز کی اختیار ا ت سے متعلق درخواست نمٹا تےہوئے قرار دیا ہے کہ رینجرز کو تھانے کے قائم کرنے کی اجازت دینا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیا رات میں نہیں آتا ۔ صوبائی و وفاقی حکومتیں اس معاملے کو ایپکس کمیٹی میں اٹھائیں اور معاملے کو حل کریںاور ضروری ہو تو قانون سازی کرائی جائے ۔دوران سماعت محکمہ پولیس کے شعبہ تفتیش کے فنڈز کی خوردبرد، غیر قانونی بھرتیوں اور جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں و افسران کے ملوث ہونے سے متعلق انکوائری کمیٹی نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو ذمہ دار قر اردیاہے ۔جس پر 3ڈی آئی جیز اور آئی جی سندھ آمنے سامنے آگئےہیں ۔ آئی جی سندھ نے 3ڈی آئی جیز کو برادران یوسف قرار دیتے ہوئے 12ہزار بھرتیوں میں سے 5ہزار غیر قانونی بھریتاں ہو نے کا بھی اعتراف کر لیا ہے جبکہ عدالت نے آئی جی سندھ کی جانب سے جسٹس امیر ہانی مسلم کو مقدمے سے علیحدہ کرنے کی درخو است بھی مسترد کر دی۔ عدالت نے نیب کوملیر ڈیو یلپمنٹ اتھارٹی اراضی اسکینڈل کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور حکم دیا ہے کہ نیب 2ماہ میں پورے معاملے کی تحقیقات کرے اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے ۔ عدالت نے سندھ حکومت کو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو رضوان میمن کاعدالتی اجازت کے بغیر تبادلہ کرنے سے بھی روک دیا ہے ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس خلیجی عارف حسین پر مشتمل لارجر بینچ نےکراچی بد امنی کیس کی سماعت کی۔ دوران سما عت رینجرز کے وکیل شاہد انور باجوہ پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ رینجرز چاہتی ہے کہ تھانے قائم کرنے ،ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ ساتھ تفتیش اور چالان کا اختیار دیا جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ یہ حکومتی معاملات ہیں حکومتوں کو خود سمجھنا چاہیے ۔ ہم اختیا رات ایک ادارے سے لے کر دوسرے ادارے کو دینے کا اختیا رنہیں رکھتے ۔ اگر قانون کی ضرورت ہے تو حکومت کو قانون بنانے کی سفارش کی جائے۔ جسٹس خلیجی عارف حسین نے کہا کہ قانون بنانا حکومت کا کام ہے اور قانون وہ بناتے ہوئے جن کو لوگ ووٹ دیتےہیں سماعت کے موقع پر آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے 158مقدمات میں سے 67میں چالان جمع کر ادیے ہیں ۔ جس پر عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو سراہا ۔ دوران سماعت ملزمان کو پے رول پر رہا کرنے پر عدالت نے ڈائریکٹر پے رول کو طلب کیا ۔ ہوم سیکرٹری نے بتایا کہ سمری منظور ہونے کے بعد ملزمان کو چھوڑا گیا اور سابق ہوم سیکرٹری نیاز عباسی نے منظوری دی تھی ۔ جس پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتیں بڑی مشکل سے ملزمان کوسزائیں دیتی ہیں اور متعلقہ حکام انہیں پے رول پر رہا کر دیتے ہیں تاکہ وہ باہر نکل پر دوبارہ شہریوں کو اغوا کرکے تاوان وصول کریں ۔ ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جائے ۔ بعدازاں عدالت نےحکم دیا کہ سابق ہوم سیکرٹری پیش ہوں اور ملزمان کو چھوڑنے پر وضاحت پیش کریں عدالت نے سماعت آئندہ سیشن کے لیے ملتو ی کر دی ۔ دریں اثنا اسی عدالت نے محکمہ پولیس کے شعبہ تفتیش کے فنڈز کی خوردبرد، غیر قانونی بھرتیوں اور جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں و افسران کے ملوث ہونے سے متعلق درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو مخاطب کرتے ہوئے کہ عدالت نے آپ کی درخواست کا جائزہ لیا ہے وہ تعصب برتنے کے معاملے میں نہیں آتا ۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے پہلے ہی سے ذہن بنا رکھا ہے اور کمیٹی بھی ان کے حکم پر بنائی گئی جبکہ فاضل جج ان کے خلاف ریمار کس بھی دے چکے ہیں کہ انہیں وردی میں نہیں رہنا چاہیے لہذا ان کا موکل ہےکہ فاضل جج اس معاملہ میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں لہذا وہ کیس سے الگ ہو جائیں جس پر جسٹس خلیجی عارف حسین نے کہا کہ یہ جج کا اختیار ہے کہ وہ سماعت کریں یا نہ کریں کسی فریق کو مرضی پر ہونے لگا تو کوئی جج فیصلہ نہیں کرپائے گا اس بینچ میں دیگر بھی ججز ہیں اور سب فیصلہ جاری کریں گے بعدازاں جسٹس امیر ہانی مسلم نے فیصلہ سنا تے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئی جی سندھ سے متعلق ریمارکس اغوا کیس میں دیے تھے جس میں پہلے آئی جی سندھ کی جانب سے لاعلمی ظاہر کی گئی اور بعد میں قبول کر لیا اور عدالت نے وہ ریمارکس زبانی دیے تھے ۔جنگ رپورٹر بلا ل احمد کے مطابق انہوں نے کہا کہوہ اپنے فرائص جاری رکھیں گے اگر انصاف نہ کر سکا تو اس منصب سے الگ ہو جاوں گا لہذا آئی جی سندھ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے جس پر آئی جی نے کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے قرار دیا کہ اگر وہ اس فیصلے سے متفق نہیں تو نظر ثانی کی درخواست دائر کریں ۔ اس موقع پر سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ آئی جی سندھ اور کمیٹی کے ممبران 21 گر یڈ میں ہیں لہذا ڈی آئی جی کی رپورٹ آئی جی کو نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دونوں عہدوں کے متلاشی ہوتے ہیں اس لیے ڈی آئی جی کی رپورٹ چیف سیکرٹری کو ہو نی چاہیے ۔ دوران سماعت ڈی آئی جی ثنا اللہ عباسی عدالت کےروبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ شعبہ تفتیش سے متعلق انکوائری مکمل ہو چکی ہے جبکہ غیر قانونی بھریتوں اور جرائم میں ملوث پولیس افسر ا ن و اہلکاروں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…