بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

ایران: سعودی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں گرفتا ر تمام ملزمان رہا

datetime 7  مارچ‬‮  2016 |

تہرا ن (نیوز ڈیسک)تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے الزام میں حراست میں لیے گئے تمام 154 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ایران میں عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجئی نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ افراد کو واقعے سے متعلق پوچھ گچھ کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا تحقیق کے سلسلے میں اب صرف دو افراد زیرحراست باقی رہ گئے ہیں”۔”فارس” نیوز ایجنسی کے مطابق ایجئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ “بعض ملزمان مذہبی شخصیات سے متعلق خصوصی عدالت میں ہیں اور ان کی رہائی کے حوالے سے میرے پاس ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہے۔ جہاں تک بقیہ ملزمان کا تعلق ہے تو دو افراد کے سوا تمام افراد کو مکمل پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے”۔تہران کے اٹارنی جنرل نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ دارالحکومت میں سعودی سفارت خانے پر دھاوے میں ملوث 154 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم ان افراد کی شناخت اور ان کی پشت پر موجود عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ادھر رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی ویب سائٹوں نے حسن کرد میہن کی رہائی کی خبر جاری کی تھی۔ میہن شدت پسند مذہبی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپوں کا سربراہ بھی ہے۔ ایرانی حکام نے میہن پر سعودی سفارت خانے پر حملے کے “ماسٹر مائنڈ” ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام سعودی سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں کی شناخت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے 2 جنوری کو اس کی عمارت میں آگ لگا دی تھی۔ شناخت چھپانے کے لے حکام واقعے میں ملوث افراد کے حوالے سے گمراہ کن اور متضاد معلومات پھیلا رہے.. اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا مرشد اعلیٰ کے نزدیکی پریشر گروپوں سے تعلق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…