ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیو میٹرک تصدیق کرانے کا فیصلہ

datetime 1  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے دہشتگردو ں و دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے فنانسنگ کی روک تھام کیلئے تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق جبکہ دس ہزار ڈالر سے کم لے کر تسلسل کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنیوالے لوگوں کی چھان بین کرنیکا فیصلہ کیاہے۔یہ اہم فیصلے وزارت خزانہ کی ذیلی کمیٹی برائے انسداد ٹیررارزم فنانسنگ کے حالیہ اجلاس میں کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ہر صوبے میں آئی جی آفس میں خصوصی سیل قائم کیا جائیگا اس کے علاوہ وزارت داخلہ، نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی اور امن و امان قائم کرنے والے ادارے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کا نام بدل کر یاکسی دوسرے نام سے کام کرنیکی اجازت نہیں دی جائیگی اور اگر کوئی کالعدم تنظیم یا ادارہ نام بد ل کر کام شروع کرے تو فوراً اسے بھی کالعدم قرار دیدیا اسی طرح کالعدم تنظیموں کے فنڈز اور اثاثہ جات کا سُراغ لگا کر انہیں بھی منجمند کیا جائیگا یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے کو موثر بنانے اور وفاقی صوبائی امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کے درمیان موثر رابطہ سازی کے حوالے سے نیکٹا موثر نظام وضع کریگا ۔

دستاویز میں دی جانیوالی تفصیلات میں بتایا گیا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں وفاقی و صوبائی سطح سمیت کسی بھی سطح پر رجسٹرڈ ملکی و غیر این جی اوز ، خیراتی اداروں کو دوبارہ سے رجسٹریشن کروانا ہو گی دستاویز میں بتایا گیا کہ ایس ای سی پی نے آئی این جی اوز اور این پی اوز کے لائنسز کی ازسر نو تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی نادرا کے ڈیٹا بیس کیساتھ بائیومیٹرک تصدیق کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ بینک کے صارفین کے بارے میں جاننے کا فارم (کے وائی سی) پُر کرنیکا اختیار بھی صرف بینک کے ایک خاص رینک کے افسران پر مشتمل ملازمین تک محدود کی اجائیگا اور ہر ملازم یہ فارم پرنہیں کر سکے گا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دس ہزار ڈالر یا اس سے کم مالیت کے یوس ایس ڈالر بیرون ملک لے جانے والے لوگوں بارے بھی چھان بین کی جائیگی اور طے پایا کہ ایف بی آر ان تمام لوگوں کا مکمل ڈیٹا تیار کر کے ایف آئی اے او اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فراہم کریگا جو دس ہزار ڈالر تک کی رقم اپنے ساتھ لیکر تسلسل کے ساتھ بیرون ملک آتے اور جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…