ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر عاصم نے قومی خزانے کو کتنا نقصان پہنچایا؟بات سو دوسو ارب کی بھی نہیں بلکہ۔۔۔! نیب کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) قومی احتساب بیورو(نیب) نے سندھ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیرڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کرپشن سمیت دیگر الزامات سے متعلق انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عاصم سے کرپشن، بدعنوانیوں، گیس کی مصنوعی قلت، منی لانڈرنگ اسپتال کا غیر قانونی استعمال سرکاری زمینوں پر قبضے سمیت 5 الزامات میں تفتیش مکمل کرلی گئی ہے۔عدالت نے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5مارچ تک ملتوی کردی۔پیرکوسخت سیکورٹی میںسابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کو کرپشن کے 5 الزامات میںاحتساب عدالت میں پیش کیاگیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عاصم کی والدہ اور بہن بھی عدالت میں موجود تھیں ۔ نیب نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ، زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ اور کمیشن لینے جیسے کیسز میں انکوائری مکمل کرتے ہوئے رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرادی ہے۔ نیب کے تفتیشی افسر ضمیرعباسی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے قومی خزانے کو 450 ارب روپے کا نقصان پہنچایا جب کہ ان پر زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ، منی لانڈرنگ، کرپشن اور کمیشن لینے جیسے سنگین الزامات ہیں۔احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسرپر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 26 فروری تک ڈاکٹر کو نیب کی تحویل میں 90 دن پورے ہو جائینگے۔ اس کے باوجود ابتک ریفرنس دائر کیوں نہیں کیا گیا جس پر تفتیشی افسرنے بتایا کہ ہمارے پاس 29 فروری تک کا وقت ہے اس لئے سپلیمنٹری ریفرنس دائرکرنے کے لئے 3 دن کی مہلت دی جائے جس پرڈاکٹرعاصم کے وکیل نے کہا کہ اگرریفرنس فائل نہیں کیا گیا تو ان کے موکل کو حراست میں رکھنے کاکوئی جوازنہیں ہے،کسٹڈی صرف تفتیش کیلئے ہوتی ہے اورنیب کے مطابق تفتیش مکمل ہے تاہم عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کو 5 مارچ تک نیب ریمانڈ پرجیل بھیجتے ہوئے آئندہ سماعت پرریفرنس طلب کرلیا۔سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے عدالت میں جناح اسپتال کے میڈیکل بورڈ کا لیٹر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناح اسپتال کے میڈیکل بورڈ نے دوسرے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کا کہا ہے اور عدالتی حکم اور ڈاکٹروں کی سفارشات کے باوجود ان کی سرجری کیوں نہیں کرائی جارہی جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ بورڈ کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ۔ نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کرنا جیل انتظامیہ کا کام ہے ۔عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹرعاصم کو ڈاکٹرہارون کی رپورٹ کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کی جائیں بعدازاں عدالت نے سماعت 5مارچ تک ملتوی کردی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…