ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

صدر ممنون حسین نے دہشت گردی کا علاج بتا دیا

datetime 20  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دیتا ہے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگوں کا واحد علاج یہی ہے جو انھیں کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے۔ انھوں واضح کیا کہ کراچی سمیت ملک کے تمام حصوں میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کی حکمرانی مکمل طور پر قائم کی جائے گی۔صدر مملکت نے یہ بات اسلام آباد میں سرحد یونیورسٹی کے بارہویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر ہوئر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے بھی اظہار خیال کیا۔صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان صنعت معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک نئے دور میں قدم رکھنے جارہا ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں اگر قوم عہد نو کے تقاضوں کے تقاضوں سے قدم ملا کر چلتی رہی تو اس کے نتیجے میں ترقی اور خوش حالی قوم کا مقدر بن جائے گی۔صدر مملکت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں پاکستان کے بہترین محل وقوع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں ملک ترقی نہ کرسکا۔لیکن یہ امر باعث مسرت ہے کہ اب یہ معاملہ قومی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے اور اس پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بدترین دہشت گردی کے باوجود یہاں کے بہادر عوام چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ عوام اور قومی سلامتی کے اداروں کی ان قربانیوں کی وجہ سے دشمن پسپا ہو چکا ہے اور ملک میں امن و امان کا سورج طلوع ہورہا ہے اور دہشت گردی دم توڑ رہی ہے۔ انھوں نے سرحد یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیم کے پروگرام کو قبائلی علاقوں تک فوری طور پر وسعت دینے کی ہدایت کی۔صدرمملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ محض سڑکوں کے ایک وسیع جال پر ہی مشتمل نہیں بلکہ یہ ایک وسیع البنیاد ترقیاتی منصوبہ ہے،جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے سائنس ٹیکنالوجی ، زرعی تحقیق، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اقتصادی علوم میں مہارت حاصل کرنی ہوگی تاکہ اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ فعال ہونے کے بعد مختلف شعبوں کے ماہرین کے لئے ہمیں غیروں کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ان جواب نے واضح کیا کہ اقتصادی راہداری کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اس سلسلے ہونے والا پروپیگنڈہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ انھوں نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ یکسوئی کی ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کریں تاکہ یہ بروقت مکمل ہوسکیں اور ملک کی معیشت مستحکم ہوسکیں۔ صدر مملکت نے اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…