اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلام آباد میں ہندؤں کی عبادت گاہ ‘ کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ تعمیر کرنے کی سفارش کردی۔ قائمہ کمیٹی نے ہندو میرج بل کی شق نمبر 12 کی کلاز III کو مسترد کردیا۔ کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کی طرف سے وزیراعظم کو بھیجی گئی سمری طلب کرلی‘ کمیٹی کا سیکرٹری وزارت سیفران کی اجلاس میں عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر نسرین جلیل کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں اکثریتی ممبران نے شرکت کی۔ ممبر کمیٹی سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کو فعال کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا مگر اب اس کو بچانے کی کوششیں کرنا پڑ رہی ہیں۔ حکومت انسانی حقوق کمیشن کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ قانون کے مطابق انسانی حقوق کا ایکشن پلان تیار کرنا کمیشن کا کام ہے ۔ انسانی حقوق ایکشن پلان کی تیاری کیلئے کمیشن سے کوئی مشاور ت نہیں کی گئی۔ وزیراعظم کی طرف سے انسانی حقوق کمیشن کا ایکشن پلان تیار کرنے کیلئے انسانی حقوق کو 40 کروڑ کے فنڈز جاری کئے گئے تھے۔ فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ وزیراعظم کو فنڈز کیلئے بھیجی گئی سمری کمیٹی کے سامنے پیس کی جائے۔ اس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اﷲ خان نے کہا کہ وزیراعظم کو کوئی سمری نہیں بھی گئی ۔ این سی ایچ آر اور وزارت انسانی حقوق کا اپنا اپنا کام ہے۔ وفاقی وزیرزاہد حامد نے کہاکہ ہمیں وارننگ نہ دی جائے بڑی مشکل سے انسانی حقوق کمیشن بنایا ہے ہم یہاں پر کمیشن سے مشورہ لینے آتے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی جہاں سے بھی شکایت آئی تو کارروائی کی جائے گی ۔ چیئرمین انسانی حقوق کمیشن علی نواز چوہان نے کہا کہ وزیراعظم کو مس لیڈ کیا جارہا ہے سب سے پہلے ہمارے رولز آف بزنس کو تبدیل کیا گیا ہمیں آپریشنل بنایا جائے۔ ہمارے پاس بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ تنخواہ دی جاتی ہے کسی قسم نے کوئی فندز نہیں ہیں منسٹری فنانس ‘ لاء اینڈ جسٹس اور اسٹیبلشمنٹ کو ہمیں سہولیات فراہم کرنی چاہیں۔ رکن کمیٹی محسن لغاری نے سوال کرنے کا موقعہ نہ دینے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میں کمیٹی کی رکنیت سے ہی استعفیٰ دے دوں گا۔ محسن لغاری کو چیئرپرسن نے واک آؤٹ کرنے سے روک لیا‘ ڈاکٹر رمیشن لال نے ہندو میرج بل 2015 ء پر کمیٹی میں بحث لیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی سے پاس ہونے والا بل نامکمل ہے یہ صرف شادی رجسٹریسن ایکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی شدہ ہندو خواتین کو اغواء کرکے مسلمان کرلیا جاتا ہے پھر اس کی مسلمانوں میں شادی کردی جاتی ہے۔ ہندو تنظیم کے صدر اشوک کمار نے کہا کہ چالیس سال سے اسلام آباد میں 58 خاندان جن کے 8 سو کے قریب لوگ ہیں ان کیلئے کوئی عبادت گاہ ۔ کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ نہیں ہے۔ سینیٹر حلال الرحمن نے لاپتہ افراد سے متعلق کہا کہ ایف سی آر قانون کو دو دن کے اندر اسلام آباد میں لاگو کیا جائے تاکہ پوری دنیا اس کے اثرات دیکھے۔ کمیٹی کو سیکرٹری قانون رضا خان نے بتایا کہ جو لوگ ایجنسیوں کی تحویل میں تھے۔ قانون بننے کے بعد رکاوٹیں ختم ہوگئیں اسی قانون کے ذریعے لوگوں کو ایجنسیوں کی تحویل سے باہر نکلنے کے دروازے کھلے ‘ کمیٹی کے اجلاس میں راولپنڈی کے رہائشی قربان حسین راجہ کی اپنے بیٹے کے اغواء سے متعلق پٹیسن زیر غور آئی جس پر کمیٹی نے تسلیم کیاکہ قربان حسین راجہ کے بیٹے کو اغواء کرنے والے پاکستانی دبئی میں ٹیکسی ڈرائیور کے خلاف پاکستان کارروائی کی جائے۔
اسلام آبا دمیں ہندوؤں کیلئے مندراور شمشان گھاٹ تعمیر کرنے کی سفارش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا



















































