ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے کراچی میں میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب روک دیا

datetime 17  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے کراچی میں میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب روک دیا ہے ، عدالت نے سندھ حکومت کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیس فروری کو ہونے والے انتخابات روک دیئے جائیں ،تین مارچ کو عدالتی فیصلے کا انتظار کیاجائے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے شو آف ہینڈ کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے دیں اس کاجائزہ لیںگے جبکہ جسٹس عمر عطاءبندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں کام کرنے دیاجائے ۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی ہے ۔ بدھ کے روز سندھ حکومت کی جانب سے شو آف ہینڈ کی بجائے خفیہ رائے شماری کے ذریعے کراچی کے میئر ، ڈپٹی میئر اور دیگر عہدوں کا انتخاب کرانے کا جو حکم دیا تھا اس کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شروع کی تو سندھ حکومت کی جانب سے فاروق ایچ نائیک جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بابر اعوان پیش ہوئے ۔ بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی میں انتخابات کے شفاف اور منصفانہ کرانے کیلئے شو آف ہینڈ کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم فنکشنل لیگ نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی کہ یہ انتخاب شو آف ہینڈ کی بجائے خفیہ رائے شماری سے کیاجائے جس پر سندھ ہائی کورٹ نے فنکشنل لیگ کی درخواست منظور کرلی تھی اور خفیہ رائے شماری سے انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا جو بیس فروری کو ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے پی کے میں انتخابات شو آف ہینڈ سے ہوسکتے ہیں تو ایسا سندھ حکومت کیوں نہیں کرسکتی برائے مہربانی عدالت سے استدعا ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب روکا جائے اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیاجائے جس پر عدالت نے کہا کہ فی الحال سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل نہیں کرسکتے ہاں اتنا کرسکتے ہیںکہ انتخابات وقتی طور پر روک دیتے ہیں بعد ازاں عدالت نے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے سماعت تین مارچ تک ملتوی کردی ہے اور فریقین سے جواب طلب کیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…