جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اب تک کے قدیم ترین ستاروں کی دریافت

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

آسٹریلوی ماہرین فلکیات کے مطابق ملکی وے کہشکشاں (جس میں نظام شمسی اور زمین واقع ہیں) کے مرکز میں یہ ستارے موجود ہیں، جب کہ اس کہشکاں میں موجود دیگر ستارے بعد میں رفتہ رفتہ جمع ہوئے اور کہکشاں بنی۔دارالحکومت کینبرا میں قائم آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ لوئس ہوؤز (Louise Howes) کے مطابق، ’’یہ چمک دار ستارے کائنات میں اب تک بچے رہنے والے ستارون میں سے قدیم ترین ہیں اور یقینی طور پر ہم نے ان سے زیادہ قدیم ستاروں کو آج تک نہیں دیکھا۔‘‘سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے تحقیقی مضمون کے مصنف ہوؤز نے مزیدکہا، ’’یہ ستارے ملکی وے کی تخلیق سے قبل پیدا ہوئے اور کہکشاں انہی ستاروں کے گرد جمع ہوئی۔‘‘ان کا مزید کہنا ہے، ’’ان ستاروں میں حیران کن حد تک کاربن، لوہے اور دیگر بھاری عناصر کی مقدار قلیل ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ کائنات کی تخلیق کے بعد پیدا ہونے والے ستارے سپرنووا کی صورت میں تباہ نہیں ہوا کرتے تھے۔‘‘آسٹریلوی قومی یونیورسٹی ANUکے ریسیرچ اسکول برائے فلکیات سے وابستہ پروجیکٹ لیڈر پروفیسر پارٹن اسپلُنڈ کے مطابق ملکی وے میں موجود اربوں ستاروں میں ان قدیم ستاروں کی دریافت بالکل ایسے ہی ہے، جیسے بھوسے کے ایک ڈھیر سے ایک سوئی کو ڈھونڈ نکالنا۔’’اے این یو کی سکائی میپر دوربین کی یہ یکتائی صلاحیت ہے کہ وہ ستاروں سے نکلنے والی روشنی کے رنگوں کو چانچ سکتی ہے۔ وہ جان سکتی ہے کہ کس ستارے میں لوہا زیادہ ہے اور کس میں کم۔ اس تحقیق میں اس دوربین کی یہی صلاحیت کام آئی۔‘‘اس تحقیقی ٹیم نے ملکی وے کے پانچ ملین ستاروں میں سے سکائی میپر کے ذریعے ان ستاروں تک پہنچنے کی کوشش کی جو سب سے زیادہ قدیم تھے اور جن میں لوہے اور دیگر بھاری عناصر کی کم ترین مقدار موجود تھی۔ ان ستاروں کا پھر چلی میں نصب انگلو آسٹریلین دوربین کے ذریعے مزید تفصیلی طور پر مطالعہ کیا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ستارے پہلے دن سے ملکی وے کے مرکز میں موجود ہیں اور ایسا نہیں کہ بعد میں اس کہکشاں کے اندر پیدا ہوئے ہوں۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ستارے اس کہکشاں کے قدیم ترین ستارے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…