جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بیلجیئم میں شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بیلجیئم ایک کروڑ 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ترقی یافتہ ملک ہے اور اس ملک کے حوالے سے شاید ہی کبھی شہ سرخیاں لگی ہوں مگر اب یہ یورپ میں جہادیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ پیرس حملوں کے فوری بعد دہشتگردوں کا برسلز سے تعلق واضح ہوگیا اور بیلجیئم کے مولین بیک ڈسٹرکٹ سے 7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اب بتایا جا رہا ہے پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ مراکش نڑاد عبدالحامد عود ہے۔یورپ کے وسط میں ہونے کے باوجود بیلجیئم میں شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہے کیونکہ شمالی افریقہ سے تارکین وطن کی آمد، نفرت پھیلانے والے مبلغین، بغد علاقوں میں غربت سمیت بہت سے عوامل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے وہاں شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ 1970 کی دہائی میں سعودی عرب کو مراکشی تارکین وطن کو تبلیغ کے لئے مبلغ بھیجنے کی اجازت دینا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ برسلز کی سب سے بڑی مسجد اب بھی سعودی شاہی خاندان کی ملکیت ہے مگر اب تازہ ترین حالات میں شام کے بحران نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیلجیئم کے پولیس کمشنر کے مطابق بیلجیئم کے 474 شہری شام گئے، 130 افراد واپس آچکے جبکہ 77 مارے گئے ہیں اور 200 کے قریب افراد اب بھی وہاں پر ہیں۔ برسلز میں واقع تھنک ٹینک کے فیلو بلال کا کہنا ہے ک مولن بیک ڈسٹرکٹ میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے اور یہ علاقہ قدرے پسماندہ بھی ہے، اس وجہ سے یہاں زیادہ شدت پسند ہیں، اس کے علاوہ بیلجیئم کے مسلمان احساس محرومی کا بھی شکار ہیں، ان کا خیال ہے انہیں قومی دھارے میں آنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، اس لئے شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…