جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

شرمناک سکینڈل، عبدالقادر نے خاموشی توڑ دی

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر نے کہا ہے کہ میں اپنے سارے رشتے اپنے دین پر قربان کرتا ہوں ، عمر اکمل کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کو بھی بدنام کیا جا رہا ہے ، پی سی بی چیئرمین تک جن لوگوں نے عمر اکمل کے حوالے سے غلط خبریں پہنچائی ہیں ان کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔ خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے عمر اکمل کیخلاف بغیر انکوائری شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے ان کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے اس واقعہ کی تحقیقات کرتے اور وارننگ دیتے اور اس کے بعد نوٹس جاری کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ عمر اکمل کی ذاتی سرگرمیوں کے حوالے سے شوکاز کیسے جاری کیا جاسکتا ہے جبکہ چیئرمین پی سی بی نے چند لوگوں کے کہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے انہوں نے کہا کہ عمر اکمل کے کلیئر ہونے کے بعد ہی میرا سوال موجود رہے گا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ بات چیئرمین پی سی بی تک پہنچائی ہے اور کہا کہ اس کے بعد ان لوگوں کی انکوائری ہوگی اور کیا ان کو سزا ملے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی کا فیصلہ عمر اکمل نے حق میں آیا تو اس کا کریڈٹ باسط علی اور شاہد آفریدی کو جائے گا۔ عبدالقادر نے خبر رساں ادارے کو مزید بتایا کہ میں اپنے ساے رشتے اپنے مذہب پرقربان کرتا ہوں اور مذہب سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور چیز نہیں ہے جب میرے بیٹے کے حوالے سے مسئلہ سامنے آیا تو میں نے اس کو بھی گھر سے نکال دیا تھا انہوں نے کہا کہ عمر اکمل کو ٹی ٹوئنٹی سے پہلے ون ڈے سے بھی ڈراپ کیا گیا جبکہ ون ڈے اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی بی چیئرمین کو چاہیے کہ وہ کرکٹ اکیڈمی میں کھلاڑیوں کے لئے تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں جن کی تعلیم کم ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سابق بہت سے ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کی تعلیم کم تھی جن میں میاں داد، مشتاق احمد اور دیگر کھلاڑی شامل ہیں مگر انہوں نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ کرکٹ بورڈ کو صرف کرکٹرز ہی چلا سکتے ہیں کیونکہ انتظامی امور کا زیادہ تر تعلق کرکٹ سے ہے انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو چاہیے وہ وہ بلاوجہ کھلاڑیوں کو تنگ نہ کریں کیونکہ کھلاڑیوں نے آگے ورلڈ کپ اور دیگر انٹرنیشنل ایونٹس بھی کھیلنے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…