جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

زین قتل کیس ، ملزمان طاقتور، اکیلی مقدمہ نہیں لڑسکتی،والدہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)زین قتل کیس ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران زین کی والدہ اور بہنوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔زین کی والدہ نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ بیٹا مرگیا اللہ کی رضا ہے، اس لیے برداشت کیامیں اکیلی مقدمہ نہیں لڑ سکتی، ملزمان بہت طاقتور ہیںٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے زین کی والدہ سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ماموں کو مدعی آپ نے بنایا تھا یا وہ خود بنے ؟ زین کی والدہ نے موقف اپنایا کہ میں نے مدعی نہیں بنایا بھائی خود کیس میں فریق بن گئے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی ملزم ہے توا سے کٹہرے میں لانا ریاست کا کام ہے ،جس جج نے فیصلہ دیا اس نے بظاہر زیادتی کی، ذیلی عدالت میں مقدمے سے لگتا ہے انصاف نہیں ہوا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے زین کی والدہ سے آپ کو مقدمہ لڑنے کی ضرورت نہیں یہ سرکار کاکام ہے کوئی پولیس اہلکار آپ کو تنگ نہیں کرے گا، آپ کے ساتھ انصاف کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔یاد رہے کہ زین کو لاہور میں رواں سال کے شروع میں سابق وفاقی وزیر کے بیٹے مصطفی کانجو اوراس کے ساتھیوں نے قتل کردیا تھا جس کا مقدمہ مقامی عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ کئی مہینے کی مسلسل سماعت کے دوران مدعی اور عینی شاہدین اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے ازخود نوٹس لے کر بنچ تشکیل دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…