ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

نریندراسنگھ مودی ”سبزقدم “ہیں ،بھارتی میڈیامیں بحث

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

نئی دہلی (نیوزڈیسک)پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد بھارتی میڈیا میں اپنے ہی وزیر اعظم یعنی نریندر مودی کے ’سبزقدم‘ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ اے این این نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مقامی میڈیا رپورٹس میں کہاجارہا ہے کہ ان کی سبزقدمی نے یورپ کو بھی نہیں بخشا۔لندن میں سبز قدم پڑتے ہی پیرس میں قیامت ٹوٹ پڑی۔وزیراعظم جس ملک بھی گئے وہاں کوئی نہ کوئی ’گڑھ بڑھ‘ ہوگئی۔وہ اب تک آسٹریلیا، کینیڈا، نیپال، چین ،جرمنی اور اب فرانس کا دورہ کرچکے ہیں اور انہی ممالک میں صورتحال بگڑی ہے۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کا ستارہ خود تو چمکا اور وہ وزیراعظم بن گئے لیکن دوسروں کے لئے ان کے قدم ’سبز‘ بن گئے۔ مودی آسٹریلیا گئے تو وزیراعظم ٹونی ایبٹ کو خود ان کی پارٹی نے ہی کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا۔ کینیڈا میں اسٹیفن ہارپر 10 سال سے وزیراعظم تھے، مودی کا وہاں پہنچنا تھا کہ ان کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ نیپال پہنچے تو وزیراعظم سوشل کوئرالہ کو فارغ کر دیا گیا۔ چین پہنچے تو وہاں کی معیشت زوال کا شکار ہوگئی۔جرمن کمپنی واکس ویگن دنیا کی سب سے بڑی کار بنانے والی کمپنی تھی مودی وہاں پہنچے تو یہی کمپنی سب سے بڑی دھوکے باز کمپنی قرار دے دی گئی اوردبئی گئے تو وہاں کے بادشاہ کا بیٹا فوت ہو گیا۔ آخر مودی بہار پہنچے، 40 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا اور الیکشن میں بی جے پی کی 40 ہی نشستیں کم ہو گئیں۔ دووز قبل مودی نے یورپ میں قدم رکھا تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ پیرس کے 7مقامات کو ایک ساتھ دہشت گردی کا نشانہ بنادیا جائے گا لیکن ایسا ہوگیا اور فرانس میں 160سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…