جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

رینجرز کا ڈاکٹرعاصم کے ہسپتال ضیاالدین پر چھاپہ، ڈپٹی ایم ڈی ڈاکٹریوسف گرفتار

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رینجرز نے ڈاکٹرعاصم حسین کے نارتھ ناظم آباد میں واقع ضیاالدین ہسپتال میں کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر یوسف ستار کو گرفتار کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹرعاصم سے تفتیش کے دوران کرپشن اور غیرقانونی قبضوں میں ملوث مزید 3 افراد کے نام سامنے آئے ہیں جن کی گرفتاری کے لئے رینجرز نے نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ضیاء الدین اسپتال کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹریوسف ستار کو گرفتارکرلیا جب کہ ڈاکٹرامتیاز ہاشمی اور ڈاکٹرصادق جعفری کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ رینجرز نے اسپتال میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور کئی اہم دستاویزات قبضے میں لیتے ہوئے ڈاکٹریوسف کو پوچھ گچھ کے لئے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضیاالدین اسپتال کے کینسروارڈ کے سیوریج نالے پر بننے، اسپتال بنانے کے لئے رقم حاصل کرنے کے ذرائعے اور اسپتال کے قریب گراو¿نڈ پر قبضہ کرکے وہاں پارکنگ قائم کرنے سے متعلق بھی تفتیش شروع کردی جب کہ رینجرز کی جانب سے گرفتار کئے گئے ڈاکٹریوسف ستار کراچی میں واقع سرکاری اسپتال کے ایم ایس بھی ہیں۔دوسری جانب رینجرز کی تحویل میں موجود مشیر پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرعاصم کے دوران میں محکمہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں سیاسی دباو¿ پر ڈھائی ہزار بھرتیاں کی گئیں جب کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں محکمے سے فارغ کئے گئے ملازمین کو دوبارہ بحال کر کے انہیں واجبات کی ادائیگی بھی کی گئی جس سے ادارے پر اضافی بوجھ ڈالا گیا جب کہ سوئی سدرن میں ساڑھے 5 سے 6 ہزار ملازمین کی گنجائش ہے جو بڑھا کر 11 ہزار کردی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سوئی سدرن کے اس وقت کے ایم ڈی عظیم احمد صدیقی نے سیاسی دباو¿ میں آکر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب کہ ڈاکٹرعاصم کے دور میں سوئی سدرن میں ہونے والی بھرتیوں اور ترقیوں کی فہرستیں تیارکی جارہی ہیں۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…