منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے غیرقانونی ٹیلیفون ایکسچینجوں کوختم کرناہوگا،سپریم کورٹ

datetime 15  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)عدالت عظمیٰ نےملک میں غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچینجوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں اور وفاقی حکومت سے دوبارہ رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر دہشتگردی کو ختم کرنا ہے تو غیر قانونی ٹیلیفون ایکسچینجوں کو ختم کرنا ہو گا، ملک میں دہشتگردی کی آگ لگی ہے ،امریکہ ،برطانیہ ،ملائیشیا،ترکی میں گرے ٹریفک کیوں نہیں ہوتی؟ اسلئے کہ وہاں قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے مگر یہاں یہ حال ہے کہ عدالت کا 24مارچ 2015ء کا آرڈر ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،ایک بار کوئٹہ میں اس حوالے سے کیس کی سماعت کی تو ایک چھوٹے سے علاقے سے ایک ٹوکر ابھر کر غیر قانونی موبائل سمیں عدالت میں پیش کردی گئیں جب تک ان چیزوں پر قابو نہیں پایا جائے گا دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا ،جسٹس جواد کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر الرحمن نےبتایا کہ ایک رپورٹ پہلے رپورٹ پیش کی تھی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا ، تازہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنا تھی مگر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان ملک سے باہر ہیں وہ خود عدالت میں پیش ہو کر رپورٹ کے حوالے سے اپنا موقف بیان کرنا چاہتی ہیں،عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کب واپس آئیں گی جب تک وہ نہیں آئیں گی کیاعدالت کیس کی سماعت نہ کرے؟انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خاتون لیگل ایڈوائزر نے عدالت کو بتایا کہ ان کی واپسی کا شیڈول کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب واپس آئیں گی ۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ یہ بیرون میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کا پیسہ ہے وہ سولہ سترہ ارب روپے کا زرمبادلہ بھجتے ہیں،کیس میں ہمیں پہلی بار گرے ٹریفیکنگ کا معلوم ہوا ہے، عوام کے ساتھ 70ارب روپے کا ہاتھ ہوا ہے ، جس کا جتنا دائو لگتا ہے وہ قومی دولت ہڑپ کرنے کے چکر میں ہوتا ہے ،عدالت نے دو پرائیویٹ کمپنیوں کی جانب سے جمع کروائی جانے والی رپورٹ پر بھی عدم اطمینان کا اظہارکیا اور بعد ازاں ٹیلی کام کمپنیوں اور وفاقی حکومت کو دوبارہ جامع رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…