منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں ریلیوں اور پاکسانی جھنڈے لہرانے پر پابندی عائد

datetime 13  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ریلیوں اورپاکستانی جھنڈے لہرانے پر پابندی لگا دی،دوسری جانب بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں کپواڑہ میں 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں کی ریلی سے پہلے ہی خوف زدہ ہوکر کریک ڈان شروع کر دیاہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حریت رہنمائوں کی ریلیوں اورپاکستانی جھنڈے لہرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے کیرن میںمحاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فوج نے دعوی کیاہے کہ شہید ہونے والے نوجوان عسکریت پسند تھے جو فوج کے ساتھ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم میں شہید ہوگئے۔ حریت قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت اور اس کی کٹھ پتلی قابض انتظامیہ نے علاقے میں معصوم لوگوں کاقتل اور ان پرجبروزیادتیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو بھارت کی ر یاستی دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ اور منظم احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے حیدرپورہ سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک اور دیگر آزادی پسند رہنماں، علمائے کرام، دانشوروں، وکلا، ڈاکٹرز، طلبا اور تاجرنمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متفقہ طور ایک قرارداد منظوری کی گئی جس میں جموں وکشمیر پربھارت کے فوجی قبضے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیاگیا۔ قرارداد میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام، جبروزیادتیوں، گرفتاریوں، محاصروں اور خانہ تلاشیوں کی شدید مذمت کی گئی۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت قیادت کوپیر13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر پر سری نگر میں مزار شہدا نقشبند صاحب تک مشترکہ مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے نظر بند کر دیا ہے۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان پہلے سے گھروں میں نظر بند ہیں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک اور سید علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم کے ترجمان ایاز اکبر کواتوارکوگھروں میں نظر بند کیا گیا۔ دریں اثنا گزشتہ 25برس میں پہلے بار یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر رمضان المبارک کے پیش نظر ہڑتال کی کال نہیں دی گئی ہے ۔13جولائی 1931کوڈوگرہ فوجیوں نے سری نگر سینٹرل جیل کے باہر یکے بعد دیگرے 22کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…