اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ریلیوں اورپاکستانی جھنڈے لہرانے پر پابندی لگا دی،دوسری جانب بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں کپواڑہ میں 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں کی ریلی سے پہلے ہی خوف زدہ ہوکر کریک ڈان شروع کر دیاہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حریت رہنمائوں کی ریلیوں اورپاکستانی جھنڈے لہرانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے کیرن میںمحاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فوج نے دعوی کیاہے کہ شہید ہونے والے نوجوان عسکریت پسند تھے جو فوج کے ساتھ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم میں شہید ہوگئے۔ حریت قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت اور اس کی کٹھ پتلی قابض انتظامیہ نے علاقے میں معصوم لوگوں کاقتل اور ان پرجبروزیادتیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو بھارت کی ر یاستی دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ اور منظم احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے حیدرپورہ سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک اور دیگر آزادی پسند رہنماں، علمائے کرام، دانشوروں، وکلا، ڈاکٹرز، طلبا اور تاجرنمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر متفقہ طور ایک قرارداد منظوری کی گئی جس میں جموں وکشمیر پربھارت کے فوجی قبضے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیاگیا۔ قرارداد میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام، جبروزیادتیوں، گرفتاریوں، محاصروں اور خانہ تلاشیوں کی شدید مذمت کی گئی۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت قیادت کوپیر13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر پر سری نگر میں مزار شہدا نقشبند صاحب تک مشترکہ مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے نظر بند کر دیا ہے۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان پہلے سے گھروں میں نظر بند ہیں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک اور سید علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم کے ترجمان ایاز اکبر کواتوارکوگھروں میں نظر بند کیا گیا۔ دریں اثنا گزشتہ 25برس میں پہلے بار یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر رمضان المبارک کے پیش نظر ہڑتال کی کال نہیں دی گئی ہے ۔13جولائی 1931کوڈوگرہ فوجیوں نے سری نگر سینٹرل جیل کے باہر یکے بعد دیگرے 22کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر میں ریلیوں اور پاکسانی جھنڈے لہرانے پر پابندی عائد
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا 58 سالہ امریکی خاتون پاکستان پہنچ گئی، اسلام قبول کر کے 34 سالہ عا...
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی
-
اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ، عسکری ادارے نے ملوث فوج...
-
آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کا جدید طیارہ اچانک غائب ہونے کی اطلاعات
-
اتنا غصہ آتا ہے تو ایسا بندہ سروس میں اتنا وقت کیسے نکال گیا؟ رائے ثاقب کھرل کا سوال
-
فیصل آباد،گھریلو جھگڑے پر دادا نے 2 پوتوں کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا
-
انٹر بینک کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی کرنسیوں کے نئے نرخ جاری
-
حذیفہ رحمان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور نورین نیازی کی ملاقات میں گفتگو بارے تفصیلات بتا دیں



















































