منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں اہم ترین سفارتی سرگرمیاں

datetime 7  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان میں سفارتی اور طالبان ذرائع کے مطابق افغان حکومت اور طالبان کے وفودباہمی مذاکرات کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تاہم حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر ان مذاکرات کی تصدیق ےا تردید نہیںکی ۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں معلوم کر کے آگاہ کرنے کی کوشش کرینگے۔جبکہ سینئر فوجی اہلکار نے اس حوالے سے ایک یا دو دن انتظار کرنے کا کہا ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق افغان طالبان ذرائع نے کہا کہ ان کی جانب سے حاجی دین محمد، ملا خلیل، فرہاد اللہ اور ملا عباس افغانستان اور قطر سے اسلام آباد آئے ہوئے ہیں ان مذاکرات کو چین کے شہر ارومچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونےوالے مذاکرات کا تسلسل یا دوسرا راو ¿نڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات (آج) بدھ سے شروع ہونے کی توقع ہے ۔اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کے سربراہ نے اس سال فروری میں کابل کے دورے میں افغان حکام اور طالبان کے درمیان رابطوں کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن کافی تاخیر کے بعد چین میں گذشتہ دنوں یہ پہلا رابطہ ہوا تھا۔وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے گذشتہ ہفتے میڈیا بریفنگ میں بھی کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے عمل میں مدد کر رہا ہے جو کہ افغانوں کی قیادت اور افغانوں کا اپنا عمل ہے۔ملا جلیل طالبان کے سابق نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، جبکہ حاجی دین محمد ننگرہار تعلق رکھتے ہیں، اور وہ ارومچی میں ہونے والے رابطے میں بھی شامل تھے۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب گذشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان میں سرحدی کشیدگی اور قندھار میں ایک اہلکار کی حراست کے بعد تلخی میں اضافہ ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیر طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔تاہم افغان طالبان نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں یہ کہتے ہوئے اپنی تحریک کو ان رابطوں سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی کہ اگر فریقین میں کوئی رابطے ہو رہے ہیں تو یہ ان کی ذاتی حیثیت میں ہوسکتے ہیں لیکن اسلامی تحریک کے نہیں۔تجزیہ نگاروں کے بقول اس بیان کا مقصد طالبان کے اندر ان رابطوں سے کسی مخالفت کو روکنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…