منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کانجم سیٹھی سے” معافی” مانگنے کا مطالبہ

datetime 7  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے پنجاب کے سابق نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر عامِ انتخابات 2013 میں دھاندلی کا الزام عائد کرنے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم سے معافی مانگیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی نگران حکومت غیر جانبدار نہیں تھی اور وہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ ملی ہوئی تھی جس نے تمام انتظامی فیصلے رائے ونڈ سے کروائے۔پنجاب میں نگران حکومت کے قیام کے بعد ہونے والے تبادلوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی بہت “چالاک” انسان ہیں اور انتخابات کے دوران انہوں نے نہ سیکریٹری داخلہ کو تبدیل کیا اور پولنگ اسٹیشنز کا 50 فیصد اسٹاف بھی ایجوکیشن کے محکمے سے تعینات کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت نے نجم سیٹھی کو کئی طرح کی مراعات دیں اور انہیں پی سی بی کا چیئرمین بنا کر فائدے پہنچائےگئے۔عمران خان نے کہا کہ سب سے منظم دھاندلی صوبہ پنجاب میں کی گئی جہاں پر اضافہ بلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کروائی گئی اور اس کا وہ پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرا م میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ
35 پنکچر کی بات سب سے پہلے مرتضیٰ پویا نے کہی تھی جو نواز شریف کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفون کال کی بنیاد پر تھی اور خود مرتضیٰ پویا نے حال ہی میں اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس کی تصدیق بھی کی تھی۔عمران خان نے کہا کہ 35 پنکچر والی بات پر ان کی دوسری سورس ڈاکٹر اعجاز ہیں جو لندن میں ہیں اور انہوں نے یہ فون کال کی ٹیپ خود سنی تھی۔پی ٹی آئی کے سربراہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ انہوں 35 پنکچر کو سیاسی بیان اس وجہ سے کہا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے جس کی ہمارے پاس سورس بھی موجود ہے اور اس کی ذرا بھی یہ مطلب نہیں کہ یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اعجاز اور مرتضیٰ پویا آج بھی اپنے بیان پر کھڑے ہیں کہ یہ بات ہوئی تھی۔
اس سوال پر کہ اگر 35 پنکچر والی بات درست ہے تو عبدالحفيظ پیرزادہ نے کمیشن کے سامنے نجم سیٹھی سے سوال کیوں نہیں کیا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی نے کمیشن کے کارروائی کے سامنے جو باتیں کی ہیں ان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ 35 نہیں بلکہ اس سے زیادہ پنکچر لگائے گئے

“آج بھی تمام الزامات پر قائم ہوں”
انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اپنے سارے الزامات پر قائم ہیں اور کچھ الزامات ایسے بھی ہیں جو ابھی تک جوڈیشل کمشین کے سامنے پیش ہی نہیں کیے گئے ہیں۔تحریکِ انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اب تک انہوں نے جن جن افراد کے نام لیے ہیں وہ سب اس منظم دھاندلی کا حصے تھے اور انہیں ایک منصوبے کے تحت یہ کام کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام ثبوت اپنے وکیل عبدالحفيظ پیرزادہ کو دے چکے ہیں اور قانونی طور پر وہ جو بہتر سجھتے ہیں انہیں اپنے دلائل کے ساتھ کمیشن کی کارروائی میں پیش کررہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…