منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بینظیر بھٹو پرحملہ کامیاب کیوں ہوا؟

datetime 7  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راولپنڈی یاسین فاروق کی طرح استغاثہ کے دوسرے گواہ اور بینظیر بھٹو کے سکیورٹی انچارج سابق ڈی آئی جی میجر ریٹائرڈ امتیاز احمد بھی اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہوگئے اب کہتے ہیں کہ لیاقت باغ کے باہر بینظیر کی سکیورٹی کیلئے پولیس موجود تھی سابق وزیراعظم اگر گاڑی سے باہر نہ نکلتیں تو نہ مرتیں، گذشتہ روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج نے اڈیالہ جیل میں مقدمہ کی سماعت شروع کی تو 27دسمبر 2007کو بینظیر بھٹو کے سکیورٹی انچارج ایس ایس پی میجر ریٹائرڈ امتیاز احمد جو بعدازاں ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ لیاقت باغ کا جلسہ ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے پولیس کی نفری موجود تھی جو لوگوں کو بینظیر کی گاڑی کے سامنے سے ہٹانے میں مصروف تھی انہوں نے کہا کہ اگر بینظیر بھٹو اپنی گاڑی سے سر باہر نہ نکالتیں تو نہ مرتیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر امتیاز کچھ ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے بیان سے منحرف ہوگئے ہیں انہوں نے 2008میں پنجاب پولیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ ناقص سکیورٹی بینظیر کی موت کا سبب بنی ہے اگر بینظیر کو واپسی پر بھی وہی سکیورٹی دی جاتی جو آتے وقت ملی تھی تو یقیناً ان کی جان محفوظ رہتی مگر گذشتہ روز انہوں نے اپنا بیان تبدیل کر لیا جس طرح کہ اس سے پہلے یاسین فاروق نے تبدیل کیا تھا اس طرح استغاثہ کی طرف سے دو پولیس افسر بطور گواہ پیش کئے گئے اور دونوں اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے، میجر امتیاز کے بیان پر وکیل صفائی نے ابتدائی جرح کر لی ہے جبکہ باقی وکلا کی آٹھ جولائی کو اپنی جرح مکمل کریں گے، عدالت نے سابق ڈی جی آئی بی بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو سمن جاری کر کے کے طلب کیا ہے بریگیڈئر اعجاز شاہ سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ میں شریک تھے جہاں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، استغاثہ کے ایک اور گواہ جاوید رحمان جو بینظیر کے ڈرائیور تھے کے نہ پیش ہونے پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ بیمار ہوکر خیبر پختونخوا کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں عدالت نے ان کی طلبی کیلئے دوبارہ سمن جاری کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ انہیں پیش کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…