منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے,جسٹس جواد خواجہ

datetime 3  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)این جی اوز کی فنڈنگ اور رجسٹریشن سے متعلق کیس میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس ديے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے، ٹکے کا بھی کام نہیں ہورہا، پلان کے تحت دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا تھی لیکن این جی اوز کی اب بھی ملکی اور غیر ملکی فنڈنگ ہو رہی ہے۔سپریم کورٹ میں این جی اوز کی فنڈنگ اور رجسٹریشن کے کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ نیشنل ایکشن پلان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بنایا گیا، یہ پلان عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے ، اس کے تحت ایک ٹکے کا بھی کام نہیں ہو رہا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا تھی لیکن این جی اوز کی اب بھی ملکی اور غیر ملکی فنڈنگ ہو رہی ہے، 6 ماہ گزر گئے، غیر قانونی این جی اوز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کراسکتے تو کہہ دیں کہ یہ محضکاغذی کارروائی تھی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت این جی او ز کی مانیٹرنگ کے لیے پالیسی بنا رہی ہے ، مشکوک این جی اوز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا ۔جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے درست کام نہ کرنے پر کسی این جی او کو شوکاز نوٹس جاری کیا ؟ نیکٹا کے لیے صرف 160 ملین روپے مختص کیے گئے ، جو بہت معمولی فنڈز ہیں ، وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں اور اب کتنا اضافہ ہوا، عدالت کو بتایا جائے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ نااہلی اور غیر مستعدی میں صوبائی حکومتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ عدالت نے حکومت سے این جی اوز کی فنڈنگ کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ کیس کی مزید سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…