واشنگٹن(نیوزڈیسک)ایران کی پارلیمان نے عالمی ماہرین کو فوجی تنصیبات کے معائنے اور حساس دستاویزات اور سائنس دانوں تک رسائی دینے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک مسودہ قانون منظور کرلیا ہے۔اتوار کو پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری کے دوران ایوان میں موجود 213 ارکان میں سے 199 نے بِل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس موقع پر کئی ارکان نے “مرگ بر امریکا” کے نعرے بھی بلند کیے۔اگر یہ بِل قانون کی شکل اختیار کرگیا توخدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کا عمل مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے جو اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں –امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی – کے نمائندے 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل تہران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔معاہدے کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار تیار کرنےکی صلاحیت کو ہر ممکن حد تک محدود کرنا ہے جس کے عوض اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔ فریقین کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا آخری دور جاری ہے۔پارلیمان سے منظوری کے بعد بِل کو قانون کی شکل اختیار کرنےکے لیے شورائے نگہبان کی توثیق درکار ہوگی جو ایرانی آئین کےتحت قانون سازی کا حتمی اور فیصلہ کن ادارہ ہے۔اتوار کو ایرانی پارلیمان کی جانب سے منظور کیے جانے والے مسودہ قانون میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیوں کےخاتمے کی شق بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مسودہ قانون میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایران کی جوہری تنصیبات کےمعائنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کی فوجی تنصیبات تک رسائی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اتوار کو پارلیمان کے اجلاس کے دوران اسپیکر علی لاریجانی نے مسودہ قانون کی شقیں بآواز بلند پڑھ کر ایوان کو سنائیں جس کے بعد ارکان نے رائے شماری کے ذریعے بِل منظور کیا۔ پارلیمان کی کارروائی سرکاری ریڈیو پر براہِ راست نشر کی گئی۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو معاہدے میں طے کردہ شرائط و ضوابط کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات کے روایتی معائنوں کی اجازت ہوگی۔لیکن، مسودہ قانون کے مطابق، عالمی ایجنسی کےمعائنہ کاروں کو فوجی، ملکی سلامتی سے متعلق اور حساس نوعیت کی غیر جوہری تنصیبات، دستاویزات اور سائنس دانوں تک رسائی نہیں دی جائے گی۔عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اقوامِ متحدہ کو معائنہ کاروں کو مخصوص حالات میں ایرانی فوجی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کرچکےک ہیں لیکن اس نوعیت کے معائنوں کو ایرانی اہلکار سختی سے کنٹرول کریں گے۔ایرانی اہلکاروں کے مطابق اس نوعیت کے دوروں کے دوران عالمی معائنہ کاروں کو فوجی تنصیبات کے گرد و نواح سے ماحولیاتی نمونے اکٹھے کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔
ایران، فوجی تنصیبات کے معائنے پر پابندی کا قانون منظور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا 58 سالہ امریکی خاتون پاکستان پہنچ گئی، اسلام قبول کر کے 34 سالہ عا...
-
ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
فیصل آباد،گھریلو جھگڑے پر دادا نے 2 پوتوں کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا
-
آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کا جدید طیارہ اچانک غائب ہونے کی اطلاعات
-
اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ، عسکری ادارے نے ملوث فوج...
-
انٹر بینک کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی کرنسیوں کے نئے نرخ جاری
-
حذیفہ رحمان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور نورین نیازی کی ملاقات میں گفتگو بارے تفصیلات بتا دیں
-
فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے
-
امریکی جج نے پاکستان سمیت 75 ممالک پر امیگریشن ویزا پابندی ختم کردی



















































