اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست گزاروں کے دلائل مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ فوجی عدالتوں کے خلاف دلائل آج جمعرات کو 11 بجے جاری رہیں گے ۔ 2 ججز کی رخصت کی وجہ سے مقدمے کی مزید سماعت کا آغاز 16 جون سے کیا جائے گا ۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کے خلاف عدلیہ کا بالکل اختیار نہ ہونا خطرناک ہو گا ۔ ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے ۔ آئین کا دفاع سپریم کورٹ اس صورت میں کرنے میں بااختیار ہے جب اس پر حملہ کیا جائے گا ۔ آئین کے تحفظ کے لئے ہم کس حد تک جا سکتے ہیں اس بارے معاملات واضح نہیں ہیں ۔ اگر ہم پر ریاست کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو کیا پارلیمنٹ کے اختیار کا تحفظ ہماری ذمہ دار نہیں ہے ۔ بھارت نے بھی حال ہی میں ہماری طرز پر ججز کی تقرری کا جوڈیشل کمیشن بنانے کی ترمیم کی ہے جو چیلنج کی گئی ہے ۔ آئین عوام کا بنایا ہوا ہے اوراب ہم ان سے کہیں کہ آپ نے آئین بناتے ہوئے بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آئین نے اختیارات میں توازن رکھا ہے ہم مکمل اختیارات رکھنے کے باوجود کسی کو جوابدہ ہیں ۔ اگر ریاستی آئین کو کوئی خطرہ ہے یا ریاست خطرے میں ہے تو کیا عدالت اس خطرے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے آئین ترامیم کالعدم یا اس کی توثیق کر سکتی ہے ۔ ہم آئین ترامیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے ۔ کیا دوسرے لفظوں میں اس ریات میں نظریہ ضرورت زندہ ہے ۔ جبکہ حفیظ پیرزادہ نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو اختیارات کے حوالے سے شتر بے مہار نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اور آئین کے مطابق اپنا اختیار استعمال کر سکتی ہے جبکہ حامد خان نے فوجی عدالتوں کے خلاف دلائل میں کہا ہے کہ ملک میں فوجی عدالتیں بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے مگر سپریم کورٹ ان کو پہلے بھی غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے چکی ہے یہ آرٹیکل 2 اے ، 8 ،25 ، 19 ، 175 ، 10 اے سمیت دیگر آرٹیکلز سے متصادم ہے ۔ انہوں نے یہ دلائل چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ بینچ کے روبرو دیئے ہیں ۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے بدھ کے روز دلائل کا آغاز کیا ۔ اور کہا کہ حامد خان دلائل دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…