پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کا زرداری اور نواز پر کاری وار

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نہ ہمارے کہنے پر میاں افتخار حسین پر ایف آئی آر کٹی، نہ ہی میرے اور پرویز خٹک کے کہنے پر رد ہو گی،خیبرپختونخوا پولیس زرداری کی پولیس نہیں نہ ہی پنجاب کے گلو بٹ ہیں، کے پی کے پولیس مکمل طور پر غیر سیاسی ہے،نادرا کے چیئرمین نے ٹربیونل میں پیش ہونا تھاوہ باہر چلے گئے،سب کچھ حکومت کے کہنے پر ہو رہا ہے، کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں بد انتظامی کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سارے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیئے تھے، چیف الیکشن کمشنربلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر معاملے کی تحقیقات کروائیں،میں ٹربیونل کے جج سے درخواست کرتا ہوں کہ این اے 122کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریں، ایک ہفتے کے اندر کیس ختم کیا جائے۔ وہ اتوار کو یہاں اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھ دی ہے، میاں صاحب کہتے تھے کہ کہاں ہے میرا پاکستان تو میاں صاحب دیکھ لیں، نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کی ہے، یہ ہے نیا پاکستان، نیا پاکستان میٹرو بس بنانے سے نہیں بنتا، اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کے سب سے بڑے بلدیاتی انتخابات ہوئے، جس میں 84ہزار امیدواروں نے حصہ لیا،41ہزار منتخب ہوں گے، پنجاب کی آبادی پاکستان کا 60فیصد ہے پھر بھی وہاں زیادہ سے زیادہ 35ہزار سے زائد افراد منتخب نہیں ہوں گے،خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، ہم نے سارے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیئے تھے، میں نے خود بدنظمی کی خبریں سن کر پرویز خٹک کو ٹیلیفون کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے آگے سے جواب دیا کہ ہمارے پاس اختیارات ہی نہیں، بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر معاملے کی تحقیقات کروائیں، اگر چیف الیکشن کمشنر اتنے بڑے انتخابات نہیں کروا سکتے تھے تو ڈویژن کی سطح پر انتخابات کروا دیتے، تحریک انصاف پر دھاندلی کے الزامات لگانے والے الیکشن ٹربیونل جائیں۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بھی کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کی تحقیقات کروائیں۔ عمران خان نے کہا کہ میرے یا پرویز خٹک کے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…