پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

میاں افتخار کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ،تحریک انصاف والے اتنا ظلم کریں جو کل خود بھی برداشت کر سکیں ،سابق وزیر

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار کو ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز اے این پی مرکزی رہنما میاں افتخار کو گزشتہ روز ہجوم پر فائرنگ کرنے اور ایک شخص کے قتل کے الزام میں گرفتاری کے بعد ریمانڈ کے لئے ڈسٹرکٹ کورٹ نوشہرہ میں پیش کیا گیا ہے ڈسٹرکٹ کورٹ میں پولیس نے درخواست دائر کی ہے کہ ملزم پر درخواست گزار کی طرف سے قتل کا الزام لگایا گیا ہے لہذا تفتیش کے لئے ملزم کا ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالت نے ملزم کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے اے این پی کے رہنما میاں افتخار کو ایک روز کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار نے کہا ہے کہ میرے اوپر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں نوجوان کی ہلاکت کیسے ہوئی مجھے معلوم نہیں میں نے کسی پر فائرنگ کی نہ محافظوں کو فائرنگ کا حکم دیا ۔ میاں افتخار نے کہا کہ ہم تو ہار گئے تھے ہم فائرنگ کیوں کرتے تحریک انصاف والے جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کر رہے تھے ان کے اپنے کارکنوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا ۔ سب کو پتہ ہے میں نے کچھ نہیں کیا میرے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ تحریک انصاف والے اتنا ظلم کریں جو کل خود بھی برداشت کر سکیں انہوں نے کہا ہے کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔ تحریک انصاف کا مشتعل ہجوم میرے دفتر پر چڑھ دوڑا بڑی مشکل سے بھاگ کر جان بچائی ۔ نوجوان کی ہلاکت ان کے ہاتھوں ہوئی ہے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور مقدمہ بھی مجھ پر درج کیا گیا ۔ جو ناانصافی ہے ۔ میاں افتخار نے الیکشن کے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں الیکشن نہیں ہوئے بلکہ انجیئرڈ طریقے سے اپنے بندے ایڈجسٹ کئے گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی دھاندل کو چھپانے کے لئے سیاسی مقدمے درج کر رہی ہے لیکن ہم گھبرانے والے نہیں ۔ ایسے کئی مراحل سے ہم گزارے ہیں حالات کا مقابلہ کریں گے ۔

مزید پڑھئے:جہیز……. شادی یا کاروبار!

دھاندلی کے حوالے سے مرکزی قیادت ہی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔ میاںافتخا ر نے گزشتہ روز جان بحق ہونے والے کارکن کے اہلخانہ سے تعزیت کی ہے اور کہا ہے کہ میری تمام ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں اللہ لواحقین کو دکھ کی اس گھڑی میں صبر جمیل فرمائے میں ان کے بیٹے کی ہلاکت میں ملوث نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…