منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بھارت میں اقبال کے لیے بعد از مرگ ایوارڈ

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت کی شمال مشرقی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے سارے جہاں سے اچھا۔۔۔ کی تھیم پر منعقد جشنِ اقبال کے پہلے دن شاعر مشرق علامہ اقبال کو بعد از مرگ تران ہند کے اعزاز سے نوازا۔اقبال کے لیے یہ اعزاز ان کے پوتے ولید اقبال نے قبول کیا جبکہ پروگرام کی نظامت اپنے زمانے کے معروف اداکار رضا مراد نے اپنی پاٹ دار آواز میں کیا۔مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے تین روزہ پروگرام جشنِ اقبال کا آغاز جمعے کو ہوا جبکہ آج اس کا آخری دن ہے۔ولید اقبال نے اپنے دادا کو دیا جانے والا اعزاز قبول کرتے ہوئے کہا: ترانہ سارے جہاں سے اچھا آج بھی اسی قدر مقبول ہے جس قدر تخلیق کیے جانے کے وقت تھا۔ انھوں نے سارے جہاں سے اچھا کا جو خواب دیکھا اور اپنے کلام میں جو کچھ تحریر کیا اس کے اثرات آج کے ہندوپاک پر بھی اسی طرح مرتب ہونے چاہیے کہ ان کے تعلقات بھی سارے جہاں سے اچھے ہوں کیونکہ یہ نظم متحدہ ہندوستان کے لیے تخلیق کی گئی تھی۔اس موقعے پر وزیر اعلی ممتا بنرجی کو اکیڈمی کی جانب سے پاسبان اردو کا خطاب دیا گیا۔ انھوں نے اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا اور اکیڈمی کا سالانہ بجٹ 80 لاکھ سے بڑھا کر 10 کروڑ کردیا۔اس پروگرام پر اگر ایک جانب کئی طرح کے سوال اٹھائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف اس سے سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا کے خالق علامہ سر محمد اقبال سے منسلک کچھ فسانے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اقبال کی یاد میں اچانک ممتا کی جانب سے ایسے شاندار پروگرام کے انعقاد اور اس میں شرکت کے لیے اقبال کے پوتے کو راتوں رات ویزا ملنے سے کئی سوال پیدا ہوئے ہیں۔اس موقع پر ممتا نے ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی وکالت تو کی ہی، عالیہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے قیام اور محمد اقبال کے اعزاز میں ایک چیئر قائم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ولید اقبال نے کہا: ایسے ادبی و ثقافتی تقریبات سے دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کو قریب سے جاننے سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس سے باہمی تعلقات میں قربت پیدا ہوگی ۔سیاسی ماہرین کو ممتا کی اس پہل میں سیاسی رنگ نظر آ رہا ہے۔سیاسی تجزیہ نگار سونند گھوش کہتے ہیں:

مزید پڑھئے:سورج کی روشنی موت کا پیغام لوگ دھوپ سے پگھلنے لگے

مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے بینر تلے اچانک اقبال کو یاد کرنا اگلے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اقلیتوں کو لبھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزریر اعلی ممتا بنرجی کی پہل اور بھارتی وزیر اعظم مودی کی دلچسپی کی وجہ سے ہی ولید کو آنا فانا یہاں آنے کے لیے ویزا مل گیا۔لیکن اکیڈمی سے منسلک ترنمول کانگریس کے رہنما ندیم الحق اس بات کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے: اس پروگرام کا مقصد ایک عظیم شاعر کو یاد کرنا ہے۔ ساتھ ہی اس سے ریاست میں اردو کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ اس کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔وزیر اعلی ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ادب اور ثقافت کو کسی حد میں نہیں باندھا جا سکتا ہے۔اس موقعے پر ولید اقبال نے کہا: ایسے ادبی و ثقافتی تقریبات سے دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کو قریب سے جاننے سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس سے باہمی تعلقات میں قربت پیدا ہوگی۔ولید نے کہا: میرے داداجان محمد اقبال نے پاکستان کا خواب ضرور دیکھا تھا لیکن وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ دونوں ممالک کا باہمی تعلق سارے جہاں سے اچھا ہوبھارت میں اقبال پر طویل خاموشی کے نتیجے میں ان کے متعلق کئی فسانے بنا دیے ہیں۔ مثلا وہ فرقہ پرست اور ہندی زبان کے مخالف تھے۔اقبال کا ذکر ہوتے ہی یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا اقلیتوں کے لیے علیحدہ ملک پاکستان کے قیام کا خیال ان ہی کی دین تھی؟ان کے پوتے ولید اقبال نے ان میں سے کم از کم ایک سوال کا جواب تو دے ہی دیا۔اردو اکیڈمی میں اقبال کی نایاب تصاویر کی ایک نمائش بھی لگائی گئی ہے۔ اس دوران سنیچر کو منعقد بین الاقوامی سیمینار میں اقبال کی زندگی اور کام پر تحقیقی مقالے پڑھے گئے۔پروگرام کا اختتام اتوار کو شاعر مشرق کی یاد میں منعقد ایک بڑے مشاعرے سے ہوگا۔

b c d



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…