پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

افغانستان کا بھارت کے بار ے میں دیرینہ مطالبہ پاکستان نے تسلیم کرلیا

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)افغانستان کا بھارت کے بار ے میں دیرینہ مطالبہ پاکستان نے تسلیم کرلیا،افغان ٹرکوں کو واہگہ بارڈر تک رسائی دیدی گئی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ پشاور میں ڈرائی پورٹ بنائی جائے جبکہ وزیر اعظم قرضہ سکیم سے خواتین تاجروں کیلئے خصوصی قرضوں کی منظوری دی جائے ۔ سیکرٹری تجارت ارباب شہزاد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ افغا ن ٹرکوں کو واہگہ بارڈر تک رسائی دیدی جبکہ پاک افغان آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے جبکہ اس کے علاوہ پاکستان افغانستان ‘ تاجکستان ‘ تجارتی معاہدہ پر بھی کام ہو رہا ہے‘فائیو سٹار ہوٹل میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس پر لاکھوں روپے کے اخراجات کا بھی انکشاف ہواہے ۔ جمعہ کے رو ز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین سراج محمد خان کی زیر صدارت یہاں پشاور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوا جس پر ارکان کے قیام و طعام و دیگر مدات میں لاکھوں روپے کے اخراجات آئے۔ سیکرٹری کامرس ارباب شہزاد نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے اچھے تعلقات ہیں جبکہ افغانستان سے بھارت جانے والے تجارتی مال کو درپیش مسائل حل کرتے ہوئے افغان ٹرکوں کو واہگہ بارڈر تک رسائی دیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان تجارتی معاہدے پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے خاص طور پر طورخم بارڈر پر نیشنل بنک کی برانچ میں فارن کرنسی اکاﺅنٹ نہ کھلنے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تاجر شدید مسائل کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ افغان کنٹینروں کی سکیننگ کا مسئلہ بھی حل کر دیا جس کے مطابق اب 100 فیصد کی بجائے صرف 20 فیصد افغان ٹرکوں کی سکیننگ ہوا کرے گی۔ وزیر اعظم نے ٹی آئی آر کنونشن میںشمولیت کیلئے سمری کی منظوری دیدی ہے جس سے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا جبکہ ایک پاک افغان تاجکستان تجارتی معاہدے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ پشاور میں فوری طور پر ڈرائی پورٹ بنائی جائے اور وزیر اعظم لون سکیم کے تحت خواتین تاجروں کو بھی قرضے فراہم کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…