پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جو ڈیشل کمیشن نے تحریک انصاف کے وکلاءاور صحافیوں کو جرح کیلئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کےلئے قائم انکوائری کمیشن نے تحریک انصاف کے وکلاءاور صحافیوں کو جرح کیلئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا جبکہ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ انتخابات میں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لینے کی تجویز تحریک انصاف سمیت 16 سیاسی جماعتوں نے دی۔ جمعہ کو چیف جسٹس ناصر الملک کی زیر صدارت انکوائری کمیشن کے اجلاس میں تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے بتایا کہ تحریک انصاف صحافیوں پر جرح کرنا چاہتی ہے . دونوں گواہوں کو یکم جون کو طلب کیا جائے ، خیبرپختونخوا میں دھاندلی سے متعلق پیپلز پارٹی کے الزامات پر تحریری جواب پیر کو دیں گے ۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے مسلم لیگ (ن )کے وکیل شاہد حامد کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ عام انتخابات 2013ءکے انعقاد سے متعلق ستمبر 2012 ءکے اجلاس میں ریٹرننگ افسران کےلئے عدلیہ سے جوڈیشل افسران لینے کی تجویز سیاسی جماعتوں نے دی ۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے انتخابات کےلئے جوڈیشل افسران بطور ریٹرننگ افسران دینے کی منظوری دی ۔ اشتیاق احمد نے بتایا کہ انہیں علم نہیں کہ بیلٹ پیپرز کی چھائی سے متعلق ریٹرننگ افسران کا طریقہ کار کیا تھا ۔ عام انتخابات میں قومی اور بین الاقوامی مبصرین نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا ۔ شاہد حامد نے سوال کیا کہ کیا کسی سیاسی جماعت کے ایجنٹ کو پولنگ سٹیشن سے نکالنے کا واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوا؟ جس پر کمیشن کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ میڈیا کسی کی شکایت نہیں ، اپنی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ اضافی بیلٹ پیپرز کے سوال پر اشتیاق احمد نے بتایا کہ 1970 سے 2013 تک عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کے مقابلے میں اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تاہم 1993 اور 2013 میں اضافی بیلٹ پیپرز چھاپنے کی شرح کم رہی سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے جرح کے دوران بتایا کہ عام انتخابات میں ریٹرننگ افسران نے فارم 16 اور 17 الیکشن کمیشن بھیجنا تھے، باقی تمام انتخابی مواد تھیلوں میں ڈالنا تھا۔ اشتیاق احمد کے مطابق مردو خواتین پولنگ بوتھ کیلئے الگ الگ بیلٹ پیپرز چھاپنے کا طریقہ کار یاد نہیں ۔انکوائری کمیشن نے سینئر صحافی حامد میر اور نجم سیٹھی کو پیر کے روز طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…