منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بھارت دہشتگردوں کی سرپرستی کر لے ، ہم جواب دیں گے،پاکستان کا کھلا چیلنج

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردوں کی سرپرستی کرنا چاہتا ہے تو کر لے ، ہم جواب دیں گے ، بھارت کہتا ہے کہ کانٹے سے کانٹا نکالیں گے اس کا جواب بھی دیں گے ، پاکستان جنگ لڑ رہا ہے ، جلد سب کانٹے نکال دیں گے ، بھارت کو پاکستان کی ترقی سے جھرجھری آتی ہے ، بھارت کو پاکستان کی ترقی اچھی نہیں لگتی اس لئے وہ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے ، بھارت پاکستان میں بدامنی پیدا کرکے خود بھی امن سے نہیں رہ سکتا ، وزیراعظم نواز شریف نے بھارت جا کر امن کا نیا دور کھولا ، سیاسی حکومت اور افواج میں مکمل ہم آہنگی ہے ۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس کے پہلے سیشن میں اقتصادی راہداری منصوبے پر تحفظات تھے لیکن دوسرے سیشن میں تمام جماعتوں کے تحفظات دور کیے گئے سب نے وزیراعظم کی بات پر اتفاق کیا ، اس لئے 28 مئی ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن وزیراعظم نواز شریف نے ہی پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تھا اور آج پھر وزیراعظم نے سب سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے پاکستان کی معاشی خوشحالی کا سنگ بنیاد بھی رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ، تمام مسائل کے حل میں عسکری قیادت اور حکومت ایک پیج پر ہیں ۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری مدد کرنے کی بجائے مسائل پیدا کررہا ہے ، بھارت طالبان کی سرپرستی کررہا ہے لیکن ہماری افواج نے ان کے خلاف مسلسل کامیابیاں حاصل کی ہیں ، اب بھی ہم دہشتگردی پر جلد قابو پا لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اگر پاکستان میں دہشتگردوں کی حمایت کرے گا تو ہم اس کا جواب دیں گے اور بھارت کانٹے سے کانٹا نکالنے کے جو بیان دیتا ہے پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہم یہ سب کانٹے بھی نکال کر اسے جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی ، بھارت جن دہشتگردوں کی سرپرستی کرنا چاہتا ہے وہ کر کے دیکھ لے ہماری افواج اس کا جواب دینا اچھی طرح جانتی ہے کیونکہ ان میں لڑنے کی ہمت اور طاقت ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کی ترقی اچھی نہیں لگتی اس لئے وہ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ سوچ لے کہ اگر پاکستان میں بدامنی ہوگی تو وہ خود بھی امن سے نہیں رہ سکتا ۔ وزیراعظم نے تو بھارت جا کر امن کا نیا دور کھولا لیکن بھارت نے اس پر کوئی مثبت رد عمل نہیں دیا



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…