منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 17برس ہو گئے، یوم تکبیر بھر پور طریقے سے منا یا گیا

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) صوبائی دارلحکومت سمیت ملک بھر میں 17 واںیوم تکبیر بھر پور طریقے سے منا یا گیا ۔ اس موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔17سال قبل 28مئی 1998ءکو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا بلکہ مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے ہر سال یوم تکبیر کے نام سے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی جو اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ 28مئی کو یوم تکبیر کا نام دیا گیا اور پھر ہر سال اسے بھرپور طریقے سے بنایا جاتا ہے، ملک بھر میں اس حوالے سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مساجد میں پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔پاکستان نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کا آغاز 1974ءمیں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد کیا اور پھر 28مئی 1998ءمیں پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے باقاعدہ طور پر ایک ایٹمی صلاحیت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے پاکستان کو عالمی پابندیوں کو سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دنیا خود کو دنیا بھر میں ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوایا۔ یوم تکبیر کی 17 ویں سالگرہ کے سلسلہ میں لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں جلسے، جلوس، سیمینارز منعقد کئے گئے جن میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے 28 مئی 1998ءکو بھارت کی جانب سے کئے گئے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں عالم اقوام اور یہود و ہنود کا ہر قسم کا دبا ¶ بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں چاغی کے مقام پر یکے بعد دیگرے 7 ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو امت مسلمہ کی پہلی اور عالم اقوام کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام بھی پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی 17 ویں سالگرہ کے سلسلہ میں کیک کاٹے گئے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…