منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اسلام کے نام پر افراتفری پھیلانے والوں کے پیچھے ہمارے دشمن ملک ہیں،چوہدری نثار

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

پاس آﺅٹ ہونے والے صرف اور صرف صلاحیتوں کی وجہ سے باقاعدہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا حصہ بن رہے ہیں ، کمانڈنٹ کی سربراہی میں ہم کو شش کریں گے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا مقام اور اونچا اور سر فخر سے بلند ہو ، مجھے احساس ہے کہ مسائل موجود ہیں ہم انہیں حل کریں گے ، ہم آپ کی ٹریننگ کو اور وسعت دیں گے ، میں نے آرمی چیف سے بات کی ہے انہوں نے وافر مقدار میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ہتھیار فراہم کئے ، انہوں نے اس سے بات کا عندیہ دیا ہے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلر ی کے لوگوں کو مزید ٹریننگ فوج سے دلوائیں گے تا کہ آ پ کا معیار ٹریننگ ایک سیڑھی اوپر جائے ، آپ حوصلے ، عزم اور ایمان داری کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں قدم رکھیں ، پاکستان اور اسلام کی سر بلندی کا تحفظ اور امن لانا آپ کی ذمہ داری ہے ،پر تشدد عناصر جو اسلام کا چہرہ بگاڑ رہے ہیں تم نے انہیں زور بازو سے روکنا ہے ، ہم کسی ملک پر حملہ نہ کسی زمین پر قابض ہو رہے ، ہم اپنی مسجدوں ، سکولوں اور بازاروں کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور ان دشمن عناصر کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمارے پر امن ملک میں تشدد کا راستہ اپنانے کی کوشش کی ہے ،

مزید پڑھئے:حاملہ خواتین ’پین کِلر‘ دوائیں زیادہ استعمال نہ کریں

میں اس موقعہ پر تمام سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں پچھلے آٹھ دس مہینوں سے فوج ،سول آرمڈ فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی دن رات کاوشوں سے پاکستان میں بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر جب سے ہم نے اقتدار سنبھالا اس سے پہلے ہر روز دھماکے ہوتے تھے ،کوئی دن دھماکوں سے خالی نہیں جاتا تھا اور سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنتے تھے ، اب ہفتے گزر جاتے ہیں ایک دھماکا نہیں ہوتا ، یہ اللہ کا کرم ہے ہماری سیکیورٹی فورسز کی دن رات محنت ہے مگر ابھی تک دشمن ختم نہیں ہوا ، ایک دھماکا ہوتا ہے تو لو گ مایوس ہو جاتے ہیں ہم نے جذبہ ایمانی اور عزم زندہ رکھنا ہے اب تو دنیا پہ واضح ہو گیا ہے کہ دھماکوں کے پیچھے کو نسی طاقتیں ہیں اب تو وہ خود مانتے ہیں جو ہمارے ازلی دشمن ہیں ان کے وزیر دفاع نے اعتراف کر لیا یہ جو اسلام کا نام لے کر ملک میں تشدد اور افراتفری پھیلا رہے ہیں یہ کسی کی کٹھ پتلیاں ہیں



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…