پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں،پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد / لندن(نیوزڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ بھارت کی تمام اہم سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں پاکستان کے خلاف عوامی جذبات کو ابھار کر اور پاکستان پر تنقید کر کہ وہ زیادہ ووٹ حاصل کر سکتی ہیں ،بھارتی سیاسی جماعتوں کی یہی سوچ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،پاکستان میں بھارت دشمنی اب انتخابی نعرہ نہیں مگر بھارتی سیاست پاکستان دشمنی کے گردگھومتی ہے،دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ۔ بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویومیں طارق فاطمی نے کہا کہ بھارت میں کوئی بھی ممتاز سیاسی جماعت یا رہنما ایسا نہیں ہے، جس نے اتنے حوصلے کا مظاہر کیا ہو اور کہا ہو کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ایک حقیقت ہے، ہمارا پڑوسی ہے جس کے ساتھ ہمارے اپنے اور خطے کے فائدے کے لیے اچھے تعلقات ہونے چاہیں۔طارق فاطمی نے کہاکہ اس کے بر عکس بھارتی سیاسی جماعتیں اور رہنما پاکستان کی مذمت کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں بہت سے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر تنقید کرنا، پاکستان کی مذمت کرنے سے شاید وہ زیادہ ووٹ حاصل کر سکیں گے۔بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت کو ایک برس مکمل ہونے پر دیے گئے خصوصی انٹرویو میں طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان میں بھارت دشمنی اب انتخابی نعرہ نہیں جبکہ بھارتی سیاست اب بھی پاکستان دشمنی کے گرد گھوم رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال بہت مختلف ہے۔ بھارت کے بارے میں یہاں سیاستدان بہت پختہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھارت کے خلاف نعرے لگا کر ووٹ مانگنے کا وقت گزر چکا ہے۔ ہماری سیاست کا طرز عمل بھارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ذمہ داری کا ہے اور میری دعا ہے بھارت بھی اس طرز عمل اور پختگی کا مظاہرہ کرے۔ہم نے را اور بھارتی ایجنسیوں پر جو بھی الزام لگائے اس کے ثبوت بھی دیے لیکن کبھی ایسا بیان نہیں دیا کہ ہم بھارت کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔طارق فاطمی کے بقول بھارتی سیاستدانوں کا یہی رویہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں ایک رکاوٹ بن چکا ہے اور اس پر پاکستان سخت مایوسی کا شکار ہے۔انہوں نے کہاکہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے ہم مایوسی کا شکار ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات شروع کرنے میں دونوں ملکوں کا فائدہ تھا۔ ہم نے اپنی طرف سے مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کی، انہیں دعوت نامہ بھیج دیا اور اب پاکستان اس سلسلے میں مزید کوئی پہل نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…