پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آئی جی سندھ کا معافی نامہ مسترد، فردِ جرم 28 مئی کوفرد جرم عائد کی جائیگی

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے معافی نامے مسترد کر دیے ہیں۔آئی جی غلام حیدر جمالی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت کا محاصرہ کرنے والے ایس ایچ او پریڈی، ایس ایس یو کے 12 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔آئی جی غلام حیدر کا کہنا تھا کہ شہر میں امن کی بحالی کے لیے پولیس نے قربانیاں دی ہیں اور جسٹس مقبول باقر پر حملے میں بھی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’یہاں قربانیوں کی بات نہیں ہو رہی، آپ آئی جی نہیں ایجنٹ بن جاتے ہیں۔ اس صورت حال کے ذمہ دار آپ ہیں اور آپ کو اس روز یہاں آنا چاہیے تھا۔‘جسٹس سجاد علی شاہ نے آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے معافی نامے مسترد کرتے ہوئے سماعت 28 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ فردِ جرم 28 کو عائد کی جائے گی۔یاد رہے کہ پیر کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ صوبائی حکومت عدالت کو بتائے کہ کس کے احکامات پر عدالت کا محاصرہ ہوا؟عدالت کا کہنا تھا کہ سادہ کپڑوں میں نقاب پوش اہلکاروں کو کارروائی کا حکم کس نے جاری کیا، اور صحافیوں پر تشدد کی ہدایات کس نے جاری کیں؟عدالت نے یہ حکم پیر کو سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی درخواست پر جاری کیا۔

مزید پڑھئے:چین : داعش آپ کے بھائی نے بنائی “،نوعمرطالبہ کا جیب بش پر ’سیاسی حملہ

عدالت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ سے یہ بھی سوال کیا کہ اس کارروائی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے۔اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ آئی جی نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس تعینات کی گئی تھی تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ کیا یہ آپریشن قانونی تھا، یہ کس کی قیادت میں ہوا اور کس نے اس کی ہدایت جاری کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…