منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آئی جی سندھ کا معافی نامہ مسترد، فردِ جرم 28 مئی کوفرد جرم عائد کی جائیگی

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے معافی نامے مسترد کر دیے ہیں۔آئی جی غلام حیدر جمالی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت کا محاصرہ کرنے والے ایس ایچ او پریڈی، ایس ایس یو کے 12 اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔آئی جی غلام حیدر کا کہنا تھا کہ شہر میں امن کی بحالی کے لیے پولیس نے قربانیاں دی ہیں اور جسٹس مقبول باقر پر حملے میں بھی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’یہاں قربانیوں کی بات نہیں ہو رہی، آپ آئی جی نہیں ایجنٹ بن جاتے ہیں۔ اس صورت حال کے ذمہ دار آپ ہیں اور آپ کو اس روز یہاں آنا چاہیے تھا۔‘جسٹس سجاد علی شاہ نے آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کے معافی نامے مسترد کرتے ہوئے سماعت 28 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ فردِ جرم 28 کو عائد کی جائے گی۔یاد رہے کہ پیر کو سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ صوبائی حکومت عدالت کو بتائے کہ کس کے احکامات پر عدالت کا محاصرہ ہوا؟عدالت کا کہنا تھا کہ سادہ کپڑوں میں نقاب پوش اہلکاروں کو کارروائی کا حکم کس نے جاری کیا، اور صحافیوں پر تشدد کی ہدایات کس نے جاری کیں؟عدالت نے یہ حکم پیر کو سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی درخواست پر جاری کیا۔

مزید پڑھئے:چین : داعش آپ کے بھائی نے بنائی “،نوعمرطالبہ کا جیب بش پر ’سیاسی حملہ

عدالت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ سے یہ بھی سوال کیا کہ اس کارروائی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے۔اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ آئی جی نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس تعینات کی گئی تھی تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ کیا یہ آپریشن قانونی تھا، یہ کس کی قیادت میں ہوا اور کس نے اس کی ہدایت جاری کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…