پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں، سپریم کو رٹ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ آپ جو بات کر رہے ہیں وہ قانون کے بارے میں کر رہے ہیں آئینی ترمیم میں ایسا نہیں کر سکتے ۔ اے کے ڈوگر نے محمود خان اچکزئی کیس کا حوالہ دیا بھارت نے بنیادی آئین خدوخال کی تھیوری فضل القادر 1963 کے مقدمے سے لی ہے جس پر انہوں نے تسلیم کیا کہ آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ بھی ہوتا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت سے سند حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ یہ ہماری احساس کمتری ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اب تو اسناد دنیا بھر میں عام ہو گئی ہیں اب کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں رہی ۔ اے کے ڈوگر نے کہاکہ 1962 کے آئین کو صدر ایوب خان نے ترمیم کر دی جس سے وہ نہ صدارتی رہا اور نہ ہی پارلیمانی ، پارلیمانی نظام حکومت میں تمام ارکان اسمبلی وزراءبن سکتے ہیں مگر صدارتی نظام حکومت میں ممبران وزراءنہیں بن سکتے ۔ مگر ان کو وزیر بننے کی اجازت دینے کے لئے ترمیم کر دی گئی ۔ کہا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے بغیر ملک میں امن نہیں ہو گا آئین تو تباہ ہونے سے روکا جائے یہ فوجی عدالتیں بھی عدالتیں ہیں یہ صرف آئین کی تباہی ہے اور کچھ نہیں ہے ۔ یہ سب باتیں غلط ہیں فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ آئینی ڈھانچے کے خلاف ہے ۔ اے کے ڈوگر نے مولوی تمیزالدین کا بھی حوالہ دیا ۔ ضیاءالرحمان بنام ریاست کا بھی حوالہ دیا ۔ عبدالولی خان 1976 کیس کا بھی حوالہ دیا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ لادینی ریاست میں قانون سازی کرنے والا سپریم ہے اور قوانین اکثریت کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں ۔ بھائی اور بہن کی شادی تک کی اجازت دی جاتی ہے مگر یہ سب قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے ہماری ریاست میں اللہ تعالیٰ اقتدار اعلی کا مالک جبکہ مغربی ممالک میں اقتدار اعلی کے مالک لوگ ہوتے ہیں ۔ صرف وہی ترمیم ہی ممکن ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر نہ کرے ۔ ہائی کورٹ نے آرٹیکل 238 کے حوالے سے فیصلے دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا خیال نہیں رکھا ۔ ڈوگرہونے کے باوجود میں یورپ میں پیدا ہوا ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ وزیر آباد میں پیدا ہونے کے باوجود میں اردو بولتا ہوں وہاں پنجابی بولی جاتی ہے ۔ پنجابی مجھے آتی ہے مگر اردو میں کورا ہوں ۔ جسٹس اعجاز چودھری نے کہا کہ ان کو بتا دیں جو جسٹس جواد کی مالا جپتے ہیں کہ بیالیس کو بتالیس بولتے ہیں ۔ اے کے ڈوگر نے ظفر علی شاہ کیس کا بھی حوالہ دیا ۔ یہ فیصلہ 12 ججز نے دیا ہے ۔ پاکستان کی اعلی عدلیہ نے قرار دیا ہے کہ جو جوڈیشل رویوں کا اختیار تو رکھتی ہیں تاہم اس کے دائرہ کار کو آئین سے نکال دیا گیا ۔ عدالت نے کہا کہ 11 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ناممکن ہے مگر وہ کوشش کریں گے ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج منگل تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…