پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں، سپریم کو رٹ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

چیف جسٹس نے کہا کہ اکثریتی رائے اس بارے کیا ہے؟ اے کے ڈوگر نے کہا کہ صرف ایک نے حق میں فیصلہ دیا تھا جبکہ 4 نے مخالفت کی تھی۔ آرٹیکل 239 شتر بے مہار آرتیکل نہیں ہے پارلیمنٹ ہر طرح کی ترمیم کر سکتی ہے مگر آئین کے بنیادی خدوخال‘ وفاقیت اسلامی تعلیمات کے برعکس ترمیم نہیں کر سکتی ہے۔ عام طور پر وفاقیت‘ جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کو بنیادی خدوخال کہا جاتا ہے اور بھی ہیں جن کو یہ سب کہا جا سکتا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس میں اقلیتوں کے حقوق بھی شامل ہیں اے کے ڈوگر نے کہا کہ اسلامی نظریہ اور جمہوریت میں بھی بنیاد اسلام پر ہے وہ بھی بنیادی خدوخال میں شامل ہے۔ جسٹس دوست نے کہا کہ اقلیتی ویو کیا کہتا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ جسٹس سلیم اختر نے کہا کہ یہ ٹچ اسٹون نہیں ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی میں بنیادی حقوق بھی شامل ہیں۔ اس میں مصنفانہ اور شفاف انتخابات بھی بنیادی خدوخال کا حصہ ہیں بھارتی مصنف نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے اور پھر عدالتی اختیار بھی شامل ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ دنیا کے ہر حصے کے لوگ انصاف چاہتے ہیں اقدار انصاف ہیں اور یہ سب معاشرے سے لی جاتی ہیں قدریں ہی اہم ہوتی ہیں اگر کوئی نظام ان قدروں کو حاصل نہیں کرتا تو پھر حالات بھی نہیں بدلتے‘ قدریں ہی سچائی ہیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ بعض مصنفتین اس کو بنیادی انسانی اخلاقیات قرار دیتے ہیں جو برقرار رہتی ہیں ان کو کوئی چوری نہیں کر سکتا۔ اچھا یا برا آئین بن گیا۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ جسٹس سلیم اختر نے جن کی بات کی ہے وہ قدریں ہیں۔ آمروں کے سیاہ کردار نے آئین کے بنیادی خدوخال کو دھندلایا اگر سوچیں بدلتی رہیں تو پھر معاملات بھی بدل جاتے ہیں۔ قدریں ہمیشہ برقرار رہتی ہیں مگر ان کا طریقہ کار بدلتا رہتا ہے۔ اے کے ڈوگر نے ایک فیصلہ کے مندرجات پڑھ کر سنائے۔اے کے ڈوگر نے کہا کہ قدروں میں تبدیلی ممکن نہیں جب 1400 سال قبل قرآن و سنت نے قدریں متعین کر دی تھیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تبدیل نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان میں مزید بہتری آئی ہے قرآن غلط نہیں کہتا ۔ سپریم کورٹ کے 2000 کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ آئین میں کی گئی ترامیم کو آرٹیکل 2 اے کے مطابق ہونا چاہئے ۔ 1993

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…