منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں، سپریم کو رٹ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

جسٹس دوست نے کہ مغڑبی قوانین میں احتساب کا تصور نہیں ہے اے کے ڈوگر نے کہا کہ یہ تصور اسلام سے آیا ہے ۔ جسٹس دوست نے کہا کہ مغرب زدہ ذہن کے لوگ ہیں تو پھر ہمارے قانون میں کیا لکھا ہو گا ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ بہت سی چیزیں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں اعتماد کرنا بھی اسلام سے آیا ہے ۔ جسٹس دوست نے کہا کہ ہم اگر غلام ہیں تو پھر کیسے ہیں اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہم ذہنی طور پر اتنے پست ہں کہ ہم اپنا ذہن استعمال ہی نہیں کرتے ۔ جسٹس سرمد جلال نے کہا کہ ہم نے آپ کو چھیڑا اب نہیں چھریں گے آپ نے ہمیں غلام ہی کہا تو تب بات کہی ہے ۔ ڈوگر نے کہا کہ ابتدائی اختیارات عوام کے عطا کردہ ہیں جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ 1985 میں بنایاگیا ۔ قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ اس وقت بنایا گیا جب آئین کو بنے کافی سال ہو گئے تھے ۔ آئین کو قرار داد مقاصد کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیا گیا ۔ اس کو آئین کا حصہ بنانے کی ضرورت نہ تھی جسٹس آصف نے کہا کہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ قرار داد مقاصد آئین کی دفعات کو کنٹرول کرتی ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آئین کو جنرل کلازز ایکٹ اپلائی نہیں کرتا اگر آئین بنانے کی قوت اسمبلی کو تھی بدلنے کا اختیار بھی اسی کو تھا جب اسمبلی آئین بنا دیتی ہے تو وہ خود غیر فعال ہو جاتی ہے یہ بات ہو چکی ہے طاقت بڑھائی جا سکتی ہے کم نہیں کی جا سکتی جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا تھا جب آئین بن جاتا ہے تو اس میں ترمیم ہو سکتی ہے آئین جب بن جاتا ہے تو اس کو بہتر بنانے کے لئے ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ جسٹس آصف نے کہا کہ جب قوم نیا آئین چاہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…