منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں، سپریم کو رٹ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں 18ویں اور 21 ویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سینئر ترین جج جسٹس جواویس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین کے حوالے سے بھارت سے کسی سند کی ضرورت نہیں ویسے بھی ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی ہیں اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں رہی برطانیہ میں ججز کے تخت کے تحت ہوتے ہیں ۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ کیا اس ملک میں سروں کے کاٹنے سے تبدیلی ممکن ہے ؟ پاکستانی عدالت آئین کے بنیادی خدوخال پر یقین رکھتی ہے اگر قوم کو نیا آئین چاہئے ہو تو کیا یہ آئین بنایا جا سکتا ہے ۔ دنیا بھر کے لوگ انصاف چاہتے ہیں اور انصاف بنیادی انسانی قدروں سے ہی ممکن ہے ۔ آمروں کے سیاہ کردار نے آئین کے بنیادی خدوخال کو دھندلا دیا جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا ہے کہ داعش بھی قرآن و سنت کا نام لیتی ہے ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں ۔ جس کا اے کے ڈوگر نے کوئی جواب نہ دیا اور فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد آئین کو تباہ و برباد کرنا ہے ۔ آرٹیکل 10 اے ، 19 اے اور 25 اے سے بنیادی حقوق میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ دلائل پیر کے روز چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ کے روبرو دیئے ہیں ۔ اے کے ڈوگر نے دلائل میں کہا ہے کہ قانون انصاف کے تحت ہی چل سکتا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی فوج لندن پر حملہ کر رہی تھی چرچل میٹنگ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ سب پریشان تھے ۔ اس وقت چرچل نے کہا تھا برائے مہربانی بتائیں کہ ہماری عدالت انصاف دے رہی ہیں تو پھر کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا ۔ آئین ترجمہ کا اختیار بھی خود دینا ہے آئین آئین ساز اسمبلی بناتی ہے ۔ آئین کی تیاری کے بعد آئین اسمبلی کا اختیار تحلیل ہو جاتا ہے آئین بنانا ایک سیاسی معاملہ ہے جس سے عدلیہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ تمیز الدین اسمبلی نے آئین کی تشکیل کے لئے قرار داد مقاصد بنائی ۔ 15 سال کا عرصہ کے اندر اندر اردو کو قومی زبان بنایا جانا تھا ہم نے بنائی ہم چونکہ مغرب کے غلام ہیں اس لئے اردو کو قومی زبان نہیں بنایا میں انگریزی پڑھ کر سنا رہا ہوں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…