جسٹس میاں ثاقب نے کہا کہ پاکستانی لوگ اسٹیک ہولڈرز ہیں اگر وہ تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو عدلیہ جائزہ لے سکتی ہے۔ خالد انور نے کہا کہ جج انصاف دیتا ہے یا نہیں عام آدمی کو عدلیہ کی آزادی بارے علم نہیں ہے اس میں حرج کیا ہے کہ کسی جج کو کہہ دیا جائے وہ انصاف نہیں دے گا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ایسی اسٹڈی مطالعہ ہے کہ جن لوگوں کو پارلیمانی کمیٹی نے مسترد کر دیا اور اب وہ کام کر رہے ہیں تو وہ کس طرح سے نظام چلا رہے ہیں؟ خالد انور نے کہا کہ اگر ایک سال پریکٹس نہ کی جائے اور جج بن جائے بعد میں وہ فارغ ہو جائے تو پھر وہ پریکٹس سے بھی جاتا رہے گا کسی کے قابل ہونے یا نہ ہونے بارے 1 سال کا عرصہ بہت زیادہ ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے تھوڑا عرصہ بھی کافی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پارلیمانی کمیٹی کے اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں آرٹیکل 175A کے سب آرٹیکل 12 کا جائزہ لیں کہ پارلیمانی کمیٹی 14 روز نامزد افراد کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔ مسترد کرنے کی وجوہات بھی بتانا پڑیں گی اکثریتی رائے سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کمیٹی کسی نامزد کو منظور نہیں کرتی تو اس حوالے سے وزیراعظم کے ذریعے وجوہات بتانا پڑیں گی۔ وہ سادہ سا بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ہم اس کو مناسب نہیں سمجھتے اس کی وجوہات کمیشن کو بھجوانے کی کیا ضرورت رکھی گئی ہے۔ کمیشن کسی اور کو نامزد کرے گا۔ وجوہات دینے کے بعد بھی معاملہ ختم نہیں ہوتا اس ایکسرسائز کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مقصد جوڈیشل کمیشن کے روبرو اس پر دوبارہ مشاورت کرتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی ایک اہم فنگشن ادا کر رہی ہے۔ منیر بھٹی کیس بھی ایک مسئلہ پیدا کرتا ہے وہ ایک اختلافی فیصلہ ہے پارلیمانی کمیٹی کی سماعت ان کمیرہ ہوتی ہیں ہر پارلیمنٹیرین کا احترام کرتے ہیں ملک انہوں نے بتایا آمروں نے نہیں کیا پارلیمانی کمیٹی کی وجوہات برقرار رکھی جا سکتی ہیں یا نہیں۔ منیر بھٹی کیس کا فیصلہ کھلی مداخلت ہے۔ خالد انور نے کہا کہ منیر بھٹی کیس کا تفصیل سے فیصلہ نہیں کر سکا۔ میں آپ کی سپورٹ کرتا ہوں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ انہوں نے اچھا پوائنٹ اٹھایا ہے اس سے قبل یہ بات نہیں کی گئی تھی میں نے یہ فیصلہ لکھا ہے جسٹس میاں ثاقب نے کہا کہ منیر بھٹی اچھا اضافہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پارلیمانی کمیٹی کسی نامزدگی کو بغیر کسی وجوہات کے مسترد کر دیتی ہے اور اگر وہ جوڈیشل کمیشن کو دوبارہ جائزے کے لئے بھجواتی ہے تو محض ہم نے اس کو مسترد کر دیا ہے آپ بھی دیکھ لیں۔ خالد انور نے بھارتی آئین کے بعض آرٹیکلز کا بھی حوالہ دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دو روز آپ کو سن چکے ہیں آپ کے پاس جمعرات تک کا وقت ہے کہ دلائل مکمل کر لیں۔ خالد انور نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ دلائل مکمل کر سکیں۔
این آ ر او کیس میں سپریم کورٹ کے قانونی نکات غیر متعلقہ تھے،جسٹس ثاقب نثار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کیسے معلوم کریں؟ پی ٹی اے نے طریقہ بتا دیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
خاتون افسر کو قیدی کیساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر قید کی سزا
-
سعودی عرب : وزٹ ویزے پر آنے والوں کیلئے بڑی خبر
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا



















































