منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

این آ ر او کیس میں سپریم کورٹ کے قانونی نکات غیر متعلقہ تھے،جسٹس ثاقب نثار

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

خالد انور نے 1973ء کے آئین میں کئی آرٹیکلز میں کی گئی ترامیم بارے تفصیل سے دلائل دیئے اور موازنہ کیا۔ انہوں نے 89 کے تحت اختیارات کی تقسیم بارے بتایا گیا ہے امریکہ میں صدر کانگرس کے باوجود کام نہیں کر سکتا جبکہ پاکستان میں صدر مملکت آرڈیننس جاری کر سکتا ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر کے آرڈیننس کا اختیار استعمال کیا جاتا ہے۔ خالد انور نے 1962ءمیں آرڈیننس میں اختیارات دیئے گئے جس کو 1973ءمیں بھی شامل کیا گیا 1956ءاس میں قدرے محتاط تھا۔ اگر آرڈیننس کو 120 دن گزر چکے ہیں تو وہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ یہ عام پریکٹس ہے کہ حکومتیں آرڈیننس کے اختیار کا غلط استعمال کرتی ہے۔ خالد انور نے کہا کہ ہمارے ملک میں اختیارات کی تنسیخ کا استعمال بغیر کسی لالچ کے اور غیر ضروری اور بے قاعدگی سے کیا جاتا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بھارتی آئین میں اس بارے میں کیا کہا گیا ہے جسٹس جواد نے کہا کہ 1935ءکے ایکٹ میں آرڈیننس بارے کیا کہا گیا ہے۔ خالد انور نے کہا کہ اس کو دیکھنا پڑے گا۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی بعض تقاریر کا بھی حوالہ دیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ 89 کہتا ہے کہ آرڈیننس صرف ایک بار دہرایا جاتا ہے اور اب اس بارے میں کہا جاتا ہے کیا فریش آردیننس جاری ہو سکتا ہے یا نہیں۔ خالد انور نے کہا کہ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آرڈیننس کا استعمال بلاواسطہ یا بالواسطہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس میاں ثاقب نے کہا کہ بھارت میں قرار دیا گیا ہے کہ آردیننس کا دوبارہ اجراءقانون کے ساتھ فراڈ ہے۔ خالد انور نے کہا کہ آپ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اس سے ریاست کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستانی پرچم میں سبز رنگ مسلمانوں کے لئے جبکہ سفید اقلیتوں کے لئے رکھا گیا۔ جمہوریت کا تصور بھی اسلامی تعلیمات سے لیا گیا ہے جہاں مشاورت کی بات کی گئی ہے۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ جمہوریت بارے ہمیں اسلام کی تعلیمات سے تصور لیا گیا ہے پاکستان کبھی بھی مولویوں کا ملک نہیں بنے گا۔ ایران مولویوں کا ملک ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…