منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آسڑیلیااورپاکستان کا دہشتگردی کےخلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون پراتفاق

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

صنعت ترقی کر رہی ہے، زرعی شعبہ میں گندم اور کپاس کی اچھی فصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر بے گناہ افراد کو قتل کرتے ہیں وہ کسی رحم کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و سلامتی کے لئے سالوں کی جدوجہد میں ہم نے ہزاروں قربانیاں دیں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا اسی لئے ہم نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بڑی کامیابی سے جاری ہے جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک، پناہ گاہوں اور ٹھکانوں کا خاتمہ ہوا ہے آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان بالخصوص تجارتی برادری کی صلاحیتوں کو استعمال میں لانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں، عوامی سطح پر روابط اور پارلیمانی تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مدد سمیت آسٹریلیا کی حکومت کے تعاون اور سپورٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی قلت کے باعث پاکستان کی صنعت متاثر ہو رہی ہے اور حکومت توانائی کی قلت دور کرنے کے لئے فوری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت کی مدت میں ہی بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا۔ مادام جولی بشپ نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، بین الاقوامی جرائم، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خاتمہ جیسے اہم شعبوں میں آسٹریلیا کے ساتھ تعاون پر پاکستان سے اظہار تشکر کیا اور ان شعبوں میں تعلقات کو مستحکم بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان شعبوں میں مزید تعاون چاہتا ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ توقع ہے کہ وزیراعظم کے اقدامات سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے اور اس کے نتیجہ میں طویل تصفیہ طلب مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ایک تجارتی وفد کے ساتھ دورہ آسٹریلیا کی دعوت بھی دی تاکہ اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان کی طرف سے آسٹریلوی وزیراعظم کے لئے نیک تمناﺅں کا پیغام پہنچائیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…