پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے نئے طریقے

datetime 3  مئی‬‮  2015 |

وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کہتے ہیں سندھ کی موجودہ حکومت ناکام ترین ہے۔ اگر گزشتہ برس ستمبر میں قتل ہونے والے ڈاکٹر شکیل اوج کے قاتل گرفتار کیے ہوتے تو وحید الرحمان قتل نہ ہوتے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ معاملہ اتنا بھی سیدھا اور سادہ نہیں۔ جامعہ کراچی کے اندرونی معاملات میں بھی خاصی گڑ بڑ ہے۔ اور بیرونی عناصر کا جامعہ کے معاملات میں عمل دخل بہت زیادہ ہے اور انہی بیرونی عناصر کو ادارے کی اندرونی سیاست کیلئے استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔
مارچ 2013 سے اپریل 2015 تک کراچی میں چار سینئیر اساتذہ کا قتل یقیناٰ پریشان کن ہے۔ پہلے پروفیسر سبط جعفر، ڈاکٹر جاوید قاضی پھر ڈاکٹر شکیل اوج اور اب ڈاکٹر وحید الرحمان کا قتل کسی منصوبہ کی کڑیاں ہوں یا الگ الگ وارداتیں مگر بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔ اور ڈاکٹرز کے بعد اساتذہ کے بیرون ملک انخلا کا بھی خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…