پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کو اہم پیغام

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سنیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے قائد کو پیغام دیا ہے کہ جیسے وہ انگلینڈ کے قوانین اور پولیس کا احترام کرتے ہیں ویسے ہی پاکستانی قوانین اور اداروں کا بھی کریں۔الطاف حسین نے جو رویہ لندن میں اختیار کیا ہے وہ پاکستان میں بھی اپنائیں ۔پاکستان کا آئین آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے تاہم قومی سلامتی کے ادروں کی تضحیک کی اجازت نہیں دیتا ہے۔میڈیا ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔جوڈیشل کمیشن کا معاملہ عدالت میں ہے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کمیشن کا فیصلہ ہمارے حق میں بھی آسکتا ہے اور ہمارے خلاف بھی آسکتا ہے ۔وہ ہفتہ کی شب کراچی آمد کے موقع پر ائیر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہپاکستان کا آئین قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے بارے میں بلاجوازاور تضحیک آمیز رویے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔موجودہ حکومت آئین پر عملدرآمد کر رہی ہے اور ہماری دوسروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ آئین کا احترام اور اس کی پابندی کا خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خصوصی طور پر وزارت اطلاعات کو ہدایت کی کہ وہ اظہار رائے کے نام پر اداروں پر انگلی اٹھانے کی خلاف ورزی پر پیمرا اپنا کردار ادا کرئے اور اس ضمن میں پیمرا نے تمام ٹی وی چینل کو خط تحریر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے اس کے متعلق ضابطہ اخلاق خود تشکیل دیا ہے میڈیا مالکان اور ایڈیٹوریل اسٹاف اس پابندی کو ملحوظ خاطر رکھیں ملکی قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں نازیبا گفتگو کو روکنا ان اداروں کے فرائض میں شامل ہے ۔جس طرح آپ کو آزادی رائے کا تحفظ دیا جا رہا ہے اس طرح آپ دوسرے کے تحفظ کا بھی خیال کریں ۔ایک سوال کے جواب میں پر ویز رشید نے کہا کہ پاکستان میں بالادست آئین ہے اور اس پر عملدرآمد کرناہماری اور سب کی ذمہ داری ہے جن لوگوں نے یہ خلاف ورزی کی ان پر لندن میں قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن انہوں نے لندن پولیس کے خلاف آج تک کوئی بیان جاری نہیں کیا وہ پاکستان کی قومی سلامتی کے ادروں کا بھی اسی طرح احترام کریں جس طرح وہ لندن پولیس کا احترام کرتے ہیں ۔متحدہ قومی موومنٹ پر پاپندی اور بلوچستان اسمبلی کی قرارد دادکے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قانونی مشاورت کے بعدکوئی راستہ اختیار کیا جائے گا۔اورسب کے ساتھ مساوی سلوک رکھا جائے گا ملک میں کمزور اور طاقتور کے لئے قانو ن برا بر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا معاملہ عدالت میں ہے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کمیشن کا فیصلہ ہمارے حق میں بھی آسکتا ہے اور ہمارے خلاف بھی آسکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…